مودی حکومت نے سرکاری سکیموں کے نام پر عوام سے غیر قانونی پارٹی فنڈ جمع کیا

نئی دلی : بھارت میں نریندر مودی کی سربراہی میں قائم بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ہندو تواحکومت نے ” بیٹی بچاو¿ بیٹی پڑھاواور کسان سیوا “جیسی حکومتی فلاحی سکیموں کے نام پر عوام سے غیر قانونی پارٹی فنڈ جمع کیا۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق معروف بھارتی ویب پورٹل” دی وائر“ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ چند برس قبل شروع کی گئیں ان سکیموں کیلئے چندہ دینے کے آپشنز آج بھی بی جے پی کے ’نریندر مودی‘ پورٹل (narendramodi.in) اور ’نمو ایپ‘ پر آج بھی موجود ہیں۔ریاست تامل ناڈو کے دارلحکومت چنائی کے سینئر صحافی اور ساتھیام ٹی وی کے نیوز ایڈیٹر بی آر اروندکشّن کی جانب سے دائر کردہ ”حق معلومات“ رائٹ ٹو انفارمیشن’ آر ٹی آئی‘ کی درخواستوں کے جواب میں انکشاف ہوا ہے کہ بی جے پی کے پاس نہ تو وزیراعظم کے دفتر اور نہ ہی کسی مرکزی وزارت کی جانب سے ان اسکیموں کے لیے عوام سے چندہ جمع کرنے کی کوئی اجازت، اختیار یا منظوری موجود تھی لیکن اسکے باوجود بی جے پی نے دسمبر 2021 سے فروری 2022 کے درمیان مذکورہ نجی پلیٹ فارمز کے ذریعے ایک بڑی چندہ مہم چلائی جس میں عوام سے کہا گیا کہ وہ سواچھ بھارت، بیٹی بچاوبیٹی پڑھاویا کسان سیوا کے لیے رقم فراہم کریں۔ یوں اس سارے معاملے سے بی جے پی کی جانب سے سرکاری سکیموں کے نام پر غیر مجاز اور غیر قانونی فنڈ ریزنگ کے سنگین سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔







