بھارت

پے در پے سفارتی ناکامیوں سے دوچارمودی حکومت چین کی گود میں بیٹھنے کیلئے بےتاب

اسلام آباد:دنیا کی توجہ اس وقت چین کے شہر تیانجِن پر مرکوز ہے جہاں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا سربراہی اجلاس ہو رہا ہے ۔ اجلاس میں روسی صدر ولادیمیرپوٹین± اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سمیت تقریباً ایک درجن کے قریب رہنما شریک ہیں۔پے در پے سفارتی شکستوں سے دوچار بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی کانفرنس میں شرکت کے لیے تیانجن پہنچ چکے ہیں ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت کو گودی میڈیا حقائق سے قطع نظر مودی کے دورے کو ایک سفارتی فتح کے طور پر پیش کر رہا ہے۔الیکٹرانک میڈیا کیساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی یہ پروپیگنڈہ زور و شور سے کیا جا رہا ہے کہ مودی کو چین میں زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے اور ان کا ایک منفرد طریقے سے استقبال کیا جارہا ہے ۔ بھارتی وزیر اعظم کا چین کا یہ دورہ سات برس بعد ہو رہا ہے ۔ وہ اس سے قبل 2018میں چین گئے تھے ۔ گوکہ گودی میڈیا نریندر مودی کے دورے کو ایک بڑی سفارتی فتح قرار دے رہا ہے تاہم بھارت میں ہی اس دورے کے حوالے سے کچھ حقیت پسندانہ تبصرے بھی کیے جا رہے ہیں۔ متعصب مودی میڈیا کو آئینہ بھی دکھایا جا رہا ہے ۔ایک بھارتی شہری نے ایئرپورٹ پر وزیر اعظم مودی کے استقبال اور وزیر اعظم شہباز شریف کے استقبال کی دو تصاویر پوسٹ کرکے لکھا ’مودی کا بھی چین میں ویسا ہی استقبال ہوا جیسا پاکستان کے وزیرِاعظم کا ہوا۔‘ دوسری جانب بی جے پی نواز سوشل میڈیااکاونٹ نے فیک تصاویر کے ساتھ دعویٰ کیا کہ چین میں وزیر اعظم مودی کا استقبال ڈرونز کے ذریعے کیا گیا لیکن بھارتی صحافی آدیتہ نے فوراً اس جھوٹ کا پول کھول دیا اور ثابت کیا اصل میں یہ تصاویر 19 اپریل کو چین کے چونکنگ میں ہونے والے ایک شو کی ہیں۔
ایک بھارتی شہری نے لکھا ”چین نے گلوان میں ہمارے فوجیوں کو ہلاک کیا، چین نے آپریشن سندور میں پاکستان کا ساتھ دیا، دوسری جانب بھگت اور مودی کے مداح صرف اس لیے فخر محسوس کرتے ہیں کہ مودی کا چین میں سرخ قالین پر استقبال ہوا۔“ بھارتی عوام کہہ رہے ہیں کہ مودی نے سنہ 2020 میں چینی اور بھارتی فوجیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپ میں مرنے والے 20 جوانوں کی لاشوں پر سمجھوتہ کر لیا۔
قبل ازیں مودی حکومت اور چین کے درمیان انتہائی کشیدگی دیکھی گئی حتی ٰ کہ بھارت نے چین کے لیے اپنی پروازیں بھی منسوخ کر دی تھیں جبکہ ٹک ٹاک سمیت بہت سے چینی پلیٹ فارمز پر پابندی بھی لگا دی تھی۔بھارتی صحافی اور لیکچرر سوشانت سنگھ نے اپنا ایک مضمون ’سٹریٹجک سرینڈر‘ میں لکھا”اگر آپ ٹھوس شواہد کے ساتھ دیکھیں تو مودی حکومت کا چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کرنا کمزوری کی علامت ہے، یہ سب بیجنگ کی شرائط پر ہو رہا ہے“۔
بھارت ایک طرف دنیا میں جگہ جگہ سفارتی ناکامیوں سے دوچار ہے ۔ آپریشن سندور کی ناکامی اور پاکستان کے آپریشن بنیان المرصوص کی بھر پور کامیابی نے پوری دنیا میں مودی کی رسوائی کا سامان کیا۔ہزیمت ، شکست اور ناکامیوں سے بوکھلاہٹ کا شکار بھارتی حکومت چین کی گود میں بیٹھنے کیلئے بےتاب نظر آرہی ہے تاہم غور طلب بات یہ ہے کہ اگر وہ بیجنگ کے ساتھ دوستی کیلئے اس قدر بے تاب ہے تو وہ چین کے ساتھ لائن آف ایکچوئل کنٹرول( ایل اے سی) پر آکاش میزائل کیوںنصب کر رہا ہے ،بھارت دلائی لامہ کی بھی میزبانی کرتا ہے اور اسے اپنے ہاں پناہ دے رکھی ہے، جسے چین علیحدگی پسند خطرہ سمجھتا ہے۔ مودی حکومت نے بغیر ثبوت کے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ چین نے مئی کی جنگ میں پاکستان کی مدد کی تھی۔ درحقیقت مریندر مودی امریکہ سے دھتکارے جانے پر شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور وہ صرف اور صرف اپنی خفت مٹانے کی کوشش میں چین گئے ہیں اور اگر انکے اس دورے کو موقع پرستی اور مطلب پرستی کا نام دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button