مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ جموں وکشمیر :بھارتی فورسز نے 37 برس میں 936 بچوں کو شہید کیا

سری نگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فورسز نے ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی مسلسل کارروائیوں کے دوران گزشتہ 37برسوں کے دوران 936 بچوں کو شہید کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی جانب سے آج ”بچوں کے عالمی دن “کے موقع پر جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ علاقے میں بھارت کے غیر قانونی قبضے اور فوجی جبر کا سب سے زیادہ شکار بچے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ 936 بچے ان 96ہزار4 سو80 افراد میں شامل ہیں جو بھارتی فوجیوں، پیر املٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس، بارڈر سیکیورٹی فورس، اسپیشل آپریشن گروپ اور پولیس اہلکاروں نے یکم جنوری 1989 سے اب تک شہید کیے ہیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران بھارتی فورسز کے ہاتھوں شہریوں کی ہلاکت سے مقبوضہ علاقے میں 1لاکھ8 ہزار 7 بچے یتیم ہو چکے ہیں۔ جنازے کے جلوسوں اور پرامن مظاہرین پر بھارتی فورسز کی طرف سے اندھا دھند فائرنگ، مہلک پیلٹ چھروں کے استعمال اور آنسو گیس کی شیلنگ سے ہزاروں بچے زخمی ہوئے ہیں اور سینکڑوں بصارت سے محروم ہوئے ہیں۔متاثرین میں 19 ماہ کی حبا جان، 4 سالہ زہرہ مجید، 8 سالہ آصف رشید، 8 سالہ اویس احمد، 10 سالہ آصف احمد شیخ اور 13 سالہ میر عرفات جیسے کم عمر بچے شامل ہیں ۔ان میں سے کچھ بچے جزوی اور کچھ مکمل طور پر اپنی بصارت کھو چکے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگست 2019 میں مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد بھارتی فورسز اہلکاروں نے گرفتار کیے جانے والے ہزاروں کشمیریوں میں سکول جانے والے بچے بھی شامل ہیں ، مقبوضہ علاقے کے یہ کمسن بچے اپنے والدین پر تشدد اور جبر کے مختلف ہتھکنڈوں کے سبب زندگی بھر کے لیے صدمے کا شکار ہیں۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کی رہنما آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی سمیت تین درجن سے زائد کشمیری مائیں اس وقت جیلوں میں قید ہیں جن کے بچے انکی گھر واپسی کے منتظر ہیں۔
30 مارچ 2025 کو بھارتی فورسز اہلکاروں ضلع کٹھوعہ کے علاقے جاکھول میں زیر حراست محمد لطیف ولد میر محمد کے گھر سے 15 اور 17 سال کی دو کمسن لڑکیوں اور ایک خاتون کو من گھڑت الزامات کے تحت گرفتار کیا۔
18 نومبر 2025 کو، بھارتی فورسز نے شہزادہ اختر اور ان کے شوہر ڈاکٹر عمر فاروق بھٹ کو سری نگر کے علاقے شیرین باغ میں ایک گھر پر چھاپے کے دوران کالے قانونی ”یواے اے پی اے “کے تحت گرفتار کیا، جس سے ان کے بچوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ میں اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ کشمیری بچوں کی حالت زار کی طرف توجہ دے اور بچوں کے عالمی دن پر مقبوضہ علاقے کے کمسنوں کے مصائب و مشکلات کو ہرگز نظر انداز نہ کرے

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button