بھارت میں مسلمانوں اوردیگر اقلیتوں کو مسلسل مظالم کا سامنا ہے : مقررین سیمینار
اسلام آباد:انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز نے یوتھ فورم فارکشمیر کے اشتراک سے اسلام آباد میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا جس میں مقبوضہ جموں وکشمیر اوربھارت میں مسلمانوں اوردیگر اقلیتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو اجاگرکیاگیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہاکہ بھارتی فورسز کے اہلکارمقبوضہ جموں وکشمیر میں چھاپوں کے دوران بے گناہ نوجوانوں سمیت عام شہریوں کو گرفتاراور تشدد کا نشانہ بنارہے ہیں جبکہ خواتین ، بچوں اورعمر رسیدہ افراد کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مقبوضہ علاقے میں 1989سے اب تک11ہزار سے زائد خواتین کی بے حرمتی کی گئی جبکہ اس وقت بھی درجنوں خواتین من گھڑت الزامات کے تحت بھارت اورمقبوضہ جموں وکشمیر کی مختلف جیلوں میں نظربند ہیں۔ بھارت میںاقلیتوں کو پسماندگی کی طرف دھکیلنے کے لئے اقتصادی جبرہندوتوا حکومت کی حکمت عملی کا بنیادی جزو ہے۔مسلمانوں ، دلتوں ، سکھوں اوردیگر اقلیتوں کی صنعتوں ،کاروبار ، گھروں اوردیگر جائیدادوں کو بلڈوزر چلاکر مسمار کیا جارہا ہے اوران کے اثاثوں پرزبردستی قبضہ کیا جارہا ہے۔ مسلمان سرکاری ملازمین کو مختلف بہانوں نے برطرف کیا جارہا ہے۔ کنٹرول لائن کے آرپار تجارت کی بندش سے کشمیری نوجوانوں میں مایوسی مزید بڑھ گئی ہے۔بھارت میں نوجوانوں کی بے روزگاری بحران کی شکل اختیارکررہی ہے۔ مقررین نے کہاکہ بی جے پی، آر ایس ایس اور بجرنگ دل سمیت انتہاپسندہندوتوا تنظیمیں مسلسل مسلمانوں کو نشانہ بنارہی ہیں اورانہیںمودی کی زیر قیادت ہندوتوا حکومت کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ تازہ ترین مثال کٹرہ میں وشنو دیوی میڈکل کالج میں مسلمان طلباء کے داخلے کو روکنے کی کوشش ہے۔مسلمان طلباء نے میرٹ پر NEETکا امتحان پاس کرکے داخلہ حاصل کیاہے لیکن ہندوتوا تنظیمیں ان کے داخلے کو ہرصورت میں روکنے پر تلی ہیں جس سے ان کاکشمیردشمن ایجنڈا بے نقاب ہوا ہے۔ سیمینار سے دیگر لوگوں کے علاوہ انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز کے صدرجوہر سلیم، حریت رہنما شمیم شال ، سیاسی رہنما ڈاکٹر شازیہ صوبیہ ،رفاح انسٹی ٹیوٹ آف پبلک پالیسی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رشید آفتاب اورصحافی فرخ کے پتافی نے بھی خطاب کیا۔










