بھارت :منی پور میں تازہ تشددسے سیکورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی عکاسی ہوتی ہے
امپھال:بھارت کی شورش زدہ ریاست منی پور کے علاقے مونگ کوٹ چیپو میں منگل کی صبح تازہ تشدد پھوٹ پڑا جہاں ایک دن پہلے دو کسان شدید زخمی ہوئے تھے جس سے علاقے میں سیکورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی عکاسی ہوتی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھاری ہتھیاروں سے لیس بندوق برداروں نے صبح ساڑے سات بجے کے قریب مارٹر اور خودکار رائفلوں سے ایک مربوط حملہ کیا۔ شارکافنگ گاو¿ں کے رہنے والے 22سالہ رنگیوئی رامرور اور34سالہ رائچن لونگلینگ زخمیوں میں شامل ہیں جن کا تعلق تنگکھول ناگا برادری سے ہے۔ حملے سے علاقے میںخوف و ہراس پھیل گیا۔جب گولیاں چلنے اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں،شہری اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ رہے تھے جبکہ اسکول کے بچوں نے کلاس رومز میں پناہ لی ۔مونگ کوٹ چیپو لیتن کے قریب واقع ہے جہاں فروری میں کوکی اور تنگکھول ناگا برادریوں کے درمیان پرتشدد جھڑپوں میں 20 سے زائد گھروں کو نذر آتش کر دیا گیا تھا، جس سے علاقے میں سیکورٹی کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی۔ منی پور میں بڑھتے ہوئے بحران کے باوجود بھارتی حکمران زمینی حقائق سے لاتعلق دکھائی دے رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ این کھیم چند سنگھ، نائب وزرائے اعلیٰ نیمچا کپگن اور یومنام لوسی ڈکھو کے ہمراہ وزیر اعظم نریندر مودی اور دیگربھارتی وزراءسے ملاقاتین کر رہے ہیں اور انہیں ریاست کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کر رہے ہیں۔ ایک طرف بھارتی دارالحکومت میںیہ ملاقاتیں جاری ہیں اوردوسری طرف ضلع اکھرول کے علاقے لیتن میں تازہ تشدد پھوٹ پڑا ہے، جس سے اس تلخ حقیقت کی نشاندہی ہوتی ہے کہ بحران ابھی ختم نہیں ہوا۔تقریباً دو سالوں سے منی پور عدم استحکام کا شکار ہے جہاں 200 سے زائد جانیں ضائع ہوچکی ہیں، ہزاروں افرادبے گھر ہو گئے اور ضروری خدمات معطل ہیں۔ حالات معمول پر آنے کے بھارتی حکمرانوں کے دعوﺅںکے باوجودتشدد کا سلسلہ جاری ہے اورسکیورٹی کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔







