کشمیری حریت رہنمائوں کی رہائشگاہوں پر بھارتی فورسز کے چھاپوں کی شدید مذمت
پاکستان کی کشمیر پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ، ترجمان دفتر خارجہ
اسلام آباد:
پاکستان نے بھارت کے غیر قانونی طور پر زیرقبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنمائوں کی رہائش گاہوں پر بھارتی قابض حکام کے چھاپوں پرسخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے آج اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ ان چھاپوں کا مقصد اختلاف رائے کو کچلنا اور کشمیریوں کو اپنی حق پر مبنی جدوجہد آزادی جاری رکھنے سے روکنے کیلئے خوفزدہ کرنا ہے ۔انہوں نے کہاکہ بھارتی فورسز کے اہلکاروں نے سرینگر، بارہمولہ، گاندربل، شوپیاں، پلوامہ،کپواڑہ، اسلام آباد، بڈگام ، بانڈی پورہ اور کولگام اضلاع کے متعدد علاقوں میں جماعت اسلامی، تحریک حریت جموں و کشمیر، مسلم لیگ، جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی اور پیپلز فریڈم لیگ سے وابستہ حریت رہنمائوں اور کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے ہیں۔ ترجمان نے بھارتی حکام پر زور دیا کہ وہ ان جابرانہ اقدامات کاسلسلہ فوری روکیں اور کشمیریوں کے بنیادی حقوق اور آزادیوں بشمول ان کے حق خود ارادیت کا احترام کریں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان نے جموں و کشمیر پر بھارتی آئین کو کبھی تسلیم نہیں کیا، پاکستان کی کشمیر پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ انہوں نے واضح کیاکہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طورپر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود دیرینہ مسئلہ ہے اور اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہونا چاہیے۔دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ بھارت کے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے کے معاملات کو متعدد بار اجاگر کیاگیا ہے۔ بھارت کے پاکستان میں ملوث ہونے کے بارے میں ڈوزیئر بھی دے چکے ہیں۔ عالمی برادری کو بھارتی دہشت گردی سے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔






