بھارت

ہم اپنے ملک کے نظام انصاف سے امید کھو رہے ہیں

نئی دہلی:ہم اپنے ملک کے نظام انصاف سے امید کھو رہے ہیں ۔ یہ الفاظ اجتماعی عصمت دری کا شکار ہونے والی بھارتی فضائیہ کی افسر ارچیشا کے بھائی کے ہیں جو بھارتی مسلح افواج میں افسران کی طرف سے اپنے ماتحتوں کے ساتھ بدسلوکی ایک اور مثال ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ارچیشا کے ساتھ پیش آنے والاالمناک واقعہ بیان کرتے ہوئے اس کے بھائی نے اپنے اکائونٹ @_plonk پر کہاکہ میری بہن بھارتی ایئر فورس آفیسر تھی، اس کو فوجی اڈے پرعصمت دری کا نشانہ بنایاگیا۔ انہوں نے کہاکہ میری بہن نے مسلح افواج میں بھرتی ہونے کے لیے بہت محنت کی، اسے ایئر فورس میں تعینات کیا گیا تھا۔ وہ 15جولائی کو ایک پارٹی میں شرکت کر رہی تھی اوراس کے اگلے دن ہمیں یہ خوفناک خبر ملی ۔ ارچیشا خون میں لت پت تھی۔ وہ کوما میں تھی۔ میری بہن کے سر میں 6انچ کا فریکچر تھا۔ چھ دن بعد وہ زندگی کی بازی ہارگئی۔ اس کے پوسٹ مارٹم سے پتہ چلا کہ اس کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ ہمیں شبہ ہے کہ یہ اجتماعی عصمت دری ہے لیکن حقیقت ہم سے چھپائی گئی۔ کہا گیا عصمت دری کی تصدیق نہیں ہوئی۔ دو سال ہو چکے ہیں لیکن اب بھی بہت سارے سوالات جواب طلب ہیں۔متاثرہ کے بھائی کا کہنا ہے کہ ہم اپنے ملک کے نظام انصاف سے امید کھو رہے ہیں۔ارچیشا کا واقعہ بڑے پیمانے پر جنسی تشدد کی صرف ایک مثال ہے۔ بھارت کی خواتین فوجیوں کی دو بار عصمت دری ہوتی ہے۔ پہلے ریپسٹ کے ذریعے، پھر نظام کے ذریعے۔ ایسا ہی واقعہ ایک کرنل کی اہلیہ کے ساتھ بھی پیش آیا جس نے انصاف کی بھیک مانگی لیکن نہ میڈیا نے اس کی مددکی اورنہ عدلیہ نے۔ بھارت میں عصمت دری کا شکار ہونے والی ہر فوجی کی بہن اوربھائی کا کہنا ہے کہ ہم اپنے نظام انصاف سے امید کھو رہے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ بھارت کی فوج اپنے لوگوں بالخصوص خواتین کی بھی حفاظت نہیں کرتی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button