مقبوضہ جموں و کشمیر : شناخت، اظہارِ رائے اور سیاسی حقوق کی جدوجہد
ارشد میر
غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر میں گذرنے والا ہر لمحہ اور ہر واقع بھارت کے جابرانہ تسلط اور ہندو فسطائیت پر مبنی مظالم کی داستانیں سنا رہا ہوتا ہے تاہم ، ہم یہاں گذشتہ روز سامنے آنے والی دو بظاہر الگ، مگر حقیقت میں ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھنے والی پیش رفتوں کا ہی انتخاب کرکے ان پر گفتگو کرتے ہیں جو یہ حقیقت نمایاں کرنے کے لئے کافی ہیں کہ مقبوضہ علاقہ میں بھارت کی حیثیت صرف جابر و ظالم کی ہے اور یہ کہ سیاسی حقوق اور اظہارِ رائے کی آزادی کا مسئلہ ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ ایک ہی جدوجہد کے دو رخ ہیں۔ ایک طرف مقبوضہ کشمیر کے سب سے بڑے اور مقبول اردو روزنامے ’’کشمیر عظمیٰ‘‘ کو سرکاری اشاعتوں کی فہرست سے خارج کردیا گیاجبکہ دوسری طرف بھارتی رکن پارلیمنٹ آغا روح اللہ مہدی نے اس بات کی اہمیت کو اجاگر کیا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی کافی نہیں بلکہ (حق خودارادیت کے بعد) بھارتی آئین کی 370 کی بحالی ہی کشمیری عوام کا بنیادی مطالبہ ہے۔ یہ دونوں واقعات دراصل اس وسیع تر سیاسی منظرنامے کی عکاسی کرتے ہیں جس میں ایک طرف عوامی آوازوں کو محدود کرنے اور دوسری طرف عوامی مطالبات کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
کشمیر کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم کی آزادی اور سیاسی حقوق سلب کیے جاتے ہیں تو سب سے پہلے اس کی زبان، ثقافت اور ذرائع ابلاغ کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’’کشمیر عظمیٰ‘‘ جیسے مقبول اردو اخبار کا سرکاری فہرست سے اخراج محض ایک انتظامی غلطی یا تکنیکی مسئلہ نہیں سمجھا جاسکتا۔ اطلاعات کے مطابق محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (DIPR) کی جاری کردہ فہرست میں 148 اشاعتوں کو شامل کیا گیا لیکن کشمیر کا سب سے زیادہ پڑھا جانے والا اردو روزنامہ اس فہرست سے غائب تھا۔حالانکہ یہ اخبار دو دہائیوں سے کشمیری عوام کی ترجمانی اور مقامی مسائل کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے اور اسکی اشاعتوں یا ادارتی پالیسی کو کسی صورت میں حریت پسندانہ سیاسی نظریہ سے ہم آہنگ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ بلکہ حقیقت یہ کہ حریت پسند کشمیری عوام کو ہی اس اخبار کے کئی معاملات میں بھارتی جبر کے آگے حقائق و انصاف سے چشم پوشی کرنے کی شکایت رہی ہے۔ مگر مودی سرکار اپنے تمام تر دعوؤں کے باوجود مقبوضہ علاقہ میں اس قدر بے اعتمادی اور خوف کی شکار ہے کہ وہ تنکوں سے بھی ڈرتی ہے اور ریاستی قوت کا فوری و بے مہاراستعمال کرتی ہے۔
اس واقعے نے کئی بنیادی سوالات کو جنم دیا ہے۔ آخر ایسا کیسے ممکن ہے کہ ایک ایسا اخبار جس کی رسائی، مقبولیت اور صحافتی اثرات کسی سے پوشیدہ نہیں، سرکاری ریکارڈ میں نظر انداز ہوجائے؟ کیا یہ محض اتفاق ہے یا پھر اس کے پیچھے ایک سوچا سمجھا رجحان کارفرما ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران بطور خاص مقبوضہ کشمیر میں میڈیا پر دباؤ، صحافیوں کی نگرانی، سرکاری اشتہارات کے ذریعے ادارتی پالیسیوں پر اثرانداز ہونے کی کوششیں اور اختلافی آوازوں کے لیے گنجائش کم کرنے کے متعدد واقعات سامنے آچکے ہیں۔ کتنے ہی صحافی مقید ہیں، 1954 سے شائع ہونے والے سب سے معتبر انگیزی اخبار کشمیر ٹائمز پر پابندی لگائی گئی، یہاں تک کہ سرینگر کا پریس کلب سیل کیا گیا۔ایسے ماحول میں ’’کشمیر عظمیٰ‘‘ کا اخراج محض ایک الگ واقعہ نہیں بلکہ بھارت کی جابرانہ اور نوآبادیاتی پالیسی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔
دوسری جانب آغا روح اللہ مہدی کا بیان بھی اسی پس منظر میں اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ان کی جدوجہد صرف ریاستی حیثیت کی بحالی تک محدود نہیں بلکہ دفعہ 370 اور 2019 سے قبل موجود آئینی تحفظات کی بحالی ان کا اصل مطالبہ ہے۔ ان کے مطابق محض ایک روزہ احتجاج یا علامتی سرگرمی کشمیری عوام کی خواہشات کی ترجمانی نہیں کرسکتی بلکہ اس کے لیے ایک منظم، مسلسل اور عوامی تحریک کی ضرورت ہے۔
یہ بیان اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ 5 اگست 2019 کے بعد بھارتی حکومت اور اس کے حامی حلقوں کی جانب سے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی رہی کہ کشمیری عوام اب اس اقدام پر خوش ہیں اور صرف ریاستی درجہ چاہتے ہیں ،چنانچہ خصوصی آئینی حیثیت کا مسئلہ پس منظر میں جاچکا ہے۔ تاہم آغا روح اللہ مہدی نے اس بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ دفعہ 370 کی بحالی بدستور پوری شدت کے ساتھ عوامی خواہشات کا مرکزی نقطہ ہے۔ ان کا بیان بطور خاص ان کی اپنی جماعت نیشنل کانفرنس اور بھارتی خیمہ سے وابستہ دیگر جماعتوں کے لئے بھی ایک چوٹ ہے جو دفعہ 370 اور 35 اے کی بحالی کو مشکل سمجھتے ہوئے اپنی سیاسی دکان قائم رکھنے کے لئے صرف ریاستی درجہ کی بحالی کو ترجیع دیتی ہیں۔ انھیں معلوم ہے کہ دفعہ 370 اور 35 اے کی بحالی کے مطالبہ کو ترجیع پہ رکھنے اور اسکے لئے جدوجہد کرنے کے نتیجہ میں انھیں بھارتی جبر، پابندیوں اور قید وبند کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ تاہم آغا روح اللہ مسلسل اسکی بحالی کو مقدم جانے ہوئے ہیں اور یہ بھی ان کی اپنی جماعت سے اختلاف کی ایک وجہ سمجھا جارہا ہے۔
یاد کیجئے 2019 میں مودی سرکار کی طرف سے دفعہ 370 اور 35 اے کے خاتمے کی آئینی جارحیت کے بعد ہی بھارتی حزب اختلاف کانگریس نے اس کی بحالی کو اولین ترجیع قرار دیتے ہوئے کشمیری عوام کے ساتھ مل کر اسکے لئے جدوجہد کرنے کا اعلان کیا تھا مگر کچھ ہی عرصہ بعد اس نے کہا کہ دفعہ 370 اب قصہ پارینہ بن گئی ہے۔ ہمیشہ کی طرح بھیڑ کی کھال میں بھیڑئے کی چال چلنے والی اس جماعت نے ایک بار پھر کشمیری عوام کو دھوکہ دیا اور ان کی قومی عزت و قار ، حقوق اور اسی کی قیادت میں بھارت کے بحثیت ریاست ان کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو بالائے طاق رکھ کر اپنے سیاسی مفادات کو ترجیع دی کیونکہ بھارت میں اکثریت مودی حکومت کی اس آئینی جارحیت کی حمایت کرتی ہے چنانچہ کانگریس نے اسکے خلاف جاکے اپنا سیاسی گھاٹہ نہ کرنے کی بے اصولی پر مبنی چانکیائی سیاست کی۔
کشمیر عظمیٰ پر پابندی اور کشمیر میں بھارتی سیاسی خیمہ کی منافقت کے مقابلہ میں آغا روح اللہ کا بیان، اگر دونوں کو یکجا کرکے دیکھا جائے تو ایک واضح تصویر سامنے آتی ہے۔ ایک طرف ایسی آوازوں کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو کشمیری شناخت، حقوق اور عوامی احساسات کی نمائندگی کرتی ہیں جبکہ دوسری طرف انہی حقوق کی بحالی کا مطالبہ کرنے والی سیاسی آوازیں مسلسل یہ باور کرارہی ہیں کہ مسئلہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ گویا میڈیا اور سیاست دونوں محاذوں پر کشمیری شناخت کے گرد ایک نئی کشمکش جاری ہے۔
اردو زبان کشمیر کی تہذیبی اور فکری روایت کا اہم حصہ رہی ہے اور کشمیر عظمیٰ اس روایت کا امین ہے۔ جب ایک ایسی اشاعت کو نظرانداز کیا جاتا ہے جو ایک قوم کی تہذیبی و فکری روایت کا امین ہونے کے ناطے لاکھوں قارئین تک پہنچتی ہو تو اس کا مطلب صرف ایک ادارے کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ ایک پوری فکری روایت کو کمزور کرنا ہوتا ہے۔ اسی طرح جب دفعہ 370 کی بحالی کے مطالبے کو ثانوی حیثیت دینے کی کوشش کی جاتی ہے تو دراصل کشمیری عوام کے اس تاریخی مؤقف کو کمزور کرنے کی کوشش ہوتی ہے جو دہائیوں سے ان کی سیاسی شناخت کا حصہ رہا ہے۔
یہ امر بھی قابل غور ہے کہ آغا روح اللہ مہدی کا مؤقف کوئی وقتی یا جذباتی ردعمل نہیں بلکہ وہ ماضی میں بھی متعدد بار اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ مقبوضہ علاقہ کی ریاستی حیثیت کی بحالی کو دفعہ 370 کے مطالبے کا متبادل نہیں بنایا جاسکتا۔ ان کے حالیہ بیانات اسی تسلسل کا حصہ ہیں جس میں وہ سیاسی حقوق، آئینی تحفظات اور حقیقی عوامی مینڈیٹ کو ایک دوسرے سے جڑا ہوا تصور کرتے ہیں۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ کسی بھی خطے میں سیاسی استحکام صرف انتظامی فیصلوں یا ترقیاتی منصوبوں سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے عوامی اعتماد، سیاسی شرکت اور اظہارِ رائے کی آزادی بنیادی عناصر ہوتے ہیں۔ اگر عوامی آوازوں کو دبایا جائے اور ان کے بنیادی مطالبات کو نظرانداز کیا جائے تو بظاہر خاموشی تو پیدا کی جاسکتی ہے لیکن پائیدار امن استحکام نہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے موجودہ حالات بھی اسی حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں جہاں ‘ پائیدار’ تو درکنار، سادہ امن بھی نہیں ہے ۔قبرستان اور سر پر بندوق رکھ کر قائم کی جانے والی خاموشی ہے جسے مودی سرکار اور اسکا گودی میڈیاامن و استحکام اور کشمیریوں کی آمادگی کا نام دے رہے ہیں ۔
کشمیر عظمیٰ کے معاملے نے اس حقیقت کی تصدیق کی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں آزاد صحافت کے لیے گنجائش مسلسل سکڑ رہی ہے اور آغا روح اللہ مہدی کے بیان نے یہ سوال دوبارہ زندہ کردیا ہے کہ کیا کشمیری عوام کے بنیادی سیاسی مطالبات کو محض ریاستی حیثیت تک محدود کرکے مسئلے کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ کشمیر میں حق خودارادیت، شناخت، حقوق اور حقیقی نمائندگی کی جدوجہد ختم نہیں ہوئی۔ سرکاری فہرستوں سے نام حذف کیے جاسکتے ہیں لیکن عوامی شعور سے نہیں۔ سیاسی مطالبات کو وقتی طور پر دبایا جاسکتا ہے مگر مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاسکتا۔ کشمیر عظمیٰ کا اخراج اور دفعہ 370 کی بحالی کے مطالبے کی تجدید دراصل اسی حقیقت کے دو مختلف مظاہر ہیں۔ ایک صحافت کی زبان میں اور دوسرا سیاست کی زبان میں یہ پیغام دے رہے ہیں کہ کشمیری عوام اپنی آزادی، شناخت، حقوق اور سیاسی مستقبل کے سوال کو فراموش کرنے کے لیے تیار نہیں۔
ان کے ہاں اصل معرکہ صرف زمین یا انتظامی اختیارات کا نہیں بلکہ حق خود اردادیت، اظہار رائے کی آزادی ، بیانیے، شناخت اور حقیقی عوامی حقِ نمائندگی کا بھی ہے۔ جب اخبارات کو نظرانداز کیا جاتا ہے اور سیاسی مطالبات کو محدود کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو دراصل اسی بیانیے کی جنگ لڑی جارہی ہوتی ہے۔ لیکن تاریخ کا سبق یہی ہے کہ عوامی شعور اور اجتماعی شناخت کو محض جبر پر مبنی سرکاری فیصلوں سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال بھی اسی تاریخی حقیقت کی ایک نئی مثال بن کر سامنے آرہی ہے۔








