حریت کانفرنس کی کشمیری سیاسی نظربندوں کی بھارتی جیلوں میں منتقلی کی مذمت

سرینگر:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی زیرقیادت قابض انتظامیہ نے درجنوں کشمیری سیاسی نظربندوں کو بھارت کی مختلف جیلوں میں منتقل کر دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سیاسی نظربندوں جن میں سے بیشتر حریت کارکن شامل ہیں کو جموں کی کوٹ بھلوال جیل، پونچھ ڈسٹرکٹ جیل اور سرینگر سینٹرل جیل سے ہریانہ اور اترپردیش کی جیلوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنمائوں سمیت سینکڑوں کشمیری قیدی نئی دلی کی تہاڑ جیل، آگرہ سینٹرل جیل، اترپردیش کی نینی سینٹرل جیل، ہریانہ کی روہتک جیل، کرنال جیل، ممبئی، بنگلورو اور راجستھان کی سنٹرل جودھپور جیل میں نظر بند ہیں۔
ادھرکل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سری نگر میں ایک بیان میں بی جے پی کی زیرقیادت حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر سے غیر قانونی طور پر نظر بند کشمیریوں کو بھارت کی مختلف جیلوں میں منتقلی کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری نظربندوں کو انکے گھروں سے سینکڑوں اور ہزاروں میل دور بھارتی جیلوں میں منتقل کرکے کشمیریوں کو سیاسی ناانصافیوں، مظالم اور اپنے وطن پر بھارت کے ناجائز قبضے کو چیلنج کرنے کی سزا دی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھارتی قابض انتظامیہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کمزور نہیں کر سکتی۔ کشمیری اپنی جدوجہدآزادی کو اسکے منطقی انجام تک جاری رکھنے کیلئے پر عزم ہیں ۔حریت ترجمان نے مزیدکہاکہ گرفتار کئے گئے کشمیری نوجوانوںمیں سے بیشتر پر پبلک سیفٹی ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ سمیت کالے قوانین کے تحت مقدمات قائم کئے گئے ہیں ۔








