مودی نے ٹرمپ سے بچنے کے لیے آسیان سمٹ میں نہ جانے کا فیصلہ کیا: بلومبرگ
واشنگٹن : امریکی جریدے بلومبرگ کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ملائیشیا میں ہونے والی آسیان سربراہی کانفرنس میں شرکت سے اس لیے گریز کیا تاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات اور پاکستان سے متعلق ممکنہ گفتگو سے بچا جا سکے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بلوم برگ کی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ بھارتی حکام کو خدشہ تھا کہ صدر ٹرمپ ایک بار پھر یہ دعویٰ دہرا سکتے ہیں کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی میں ثالثی کا کردار ادا کیا تھا جس سے بھارت کے لیے سفارتی طور پر شرمندگی پیدا ہو سکتی تھی۔بلومبرگ نے بتایا کہ مئی میں پاک بھارت کشیدگی کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات میں تنائو پایا جا رہا ہے، خاص طور پر اس وقت سے جب ٹرمپ نے بھارتی برآمدات پر 50فیصد ٹیرف عائد کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ اقدام بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری کے باعث کیا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق مودی کی ٹیم نے یہ فیصلہ کیا کہ ٹرمپ سے ممکنہ ملاقات بھارت کے لیے کسی واضح فائدے کا باعث نہیں بنے گی۔ گزشتہ ہفتے دونوں رہنمائوں کے درمیان ہونے والی فون کال بھی نئی دہلی کی توقعات پر پوری نہیں اتری۔بلومبرگ نے لکھا کہ مودی کی آسیان سمٹ سے غیرحاضری غیر معمولی ہے کیونکہ 2014میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے انہوں نے سوائے 2022کے تمام اجلاسوں میں شرکت کی ہے۔ 2020اور 2021کے اجلاس کورونا کے باعث ورچوئل طور پر منعقد ہوئے تھے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی اس بار اجلاس میں شریک نہ ہو کر ٹرمپ کے غیر متوقع بیانات سے بچنا چاہتے تھے جو ماضی میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور جنوبی افریقہ کے سیرل راما فوسا جیسے رہنمائوں کے لیے شرمندگی کا باعث بن چکے ہیں۔رپورٹ کے مطابق مودی نے اجلاس سے ورچوئل خطاب کیا جبکہ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی اور دوطرفہ تعلقات پر گفتگو کی۔بلومبرگ کے مطابق مودی اگلے ماہ جوہانسبرگ میں ہونے والے جی-20 اجلاس میں شرکت کریں گے جہاں ان کی دیگر عالمی رہنمائوں سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔








