چین کی جانب سے پہلی بارحالیہ پاک بھارت جنگ کے دوران ثالثی کی تصدیق
بیجنگ:
چین نے پہلی بار تصدیق کی ہے کہ اس نے رواں سال مئی میں پاک بھارت جنگ کے دوران ثالثی کی تھی۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے بیجنگ میں ایک بین الاقوامی سمپوزیم میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس سال بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی خطے کے ان کشیدہ مسائل میں سے ایک تھی جن پر چین نے ثالثی کی کوشش کی۔انہوں نے کہاکہ چین نے نہ صرف بھارت پاکستان بلکہ شمالی میانمار، ایرانی جوہری مسئلہ، فلسطین اسرائیل اور حالیہ کمبوڈیا تھائی لینڈ تنازعات میں بھی ثالثی کا کردار ادا کیا۔وانگ یی نے کہا کہ اس سال مقامی جنگیں اور سرحدی کشیدگی دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے زیادہ شدت کے ساتھ دیکھنے میں آئے ہیں اور جیو پولیٹیکل عدم استحکام پھیلتا رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ چین نے پائیدار امن قائم کرنے کے لیے ایک منصفانہ اور معروضی پالیسی اختیار کی ہے، جس میں علامات کے علاج کے ساتھ ساتھ بنیادی وجوہ پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ وانگ یی نے مزید کہا کہ اسی پالیسی کے تحت چین نے نہ صرف بھارت پاکستان تنازع میں بلکہ شمالی میانمار، ایران کے جوہری مسئلے، فلسطین-اسرائیل، اور کمبوڈیا-تھائی لینڈ کے حالیہ تنازعات میں بھی ثالثی کی کوششیں کی ہیں۔چین کی مشرقی پالیسی کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے بھارت-چین تعلقات میں بہتری کی اچھی رفتار کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ بیجنگ نے سال کے دوران شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے ٹینجین سمٹ میں بھارتی وزیر اعظم کو مدعو کیا تھا، جسے انھوں نے کامیاب قرار دیا۔ وانگ یی نے برکس ممالک کے تعاون میں اضافہ اور معاشی گلوبلائزیشن میں درپیش چیلنجز پر بھی گفتگو کی، اور امریکا کے ساتھ چین کے تعلقات کو بہت اہم دوطرفہ تعلق قرار دیا۔
واضح رہے کہ پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد رواں سال مئی میں بھارت کی بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں پاکستان نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے اسکے 7لڑاکا طیارے تباہ کردئے تھے ۔





