بھارت

بھارت :حجاب نہ اتارنے پر مسلمان خاتون کو اسپتال میں دوائی دینے سے انکار

لکھنو:بی جے پی کے زیر اقتداربھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر کانپور کے ایک سرکاری اسپتال میں عملے نے حجاب نہ اتارنے پر ایک مسلمان خاتون کو دوائی دینے سے انکار کر دیا۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اس واقعے نے سوشل میڈیا پر غم و غصے کو جنم دیا اور بھارت خاص طور پر بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک پر نئی تشویش پیدا کردی۔ یہ واقعہ ارسلا ہارسمین میموریل ہسپتال میں پیش آیا جہاں ڈاکٹروں نے خاتون کو ادویات کی فراہمی سے قبل اپنا حجاب اتارنے کو کہا۔ واقعہ بیان کرنے والی خاتون کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے۔خاتون نے بتایا کہ اس کا ٹوکن نمبر جاری ہونے اور تقریباً ایک گھنٹے تک انتظار کرنے کے بعد دو خواتین ڈاکٹروں نے سیکیورٹی خدشات اور ہسپتال میں چوری کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ انہیں اپنا حجاب اتارنا پڑے گا۔ خاتو ن نے اس ہدایت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حجاب اتارنے کے لئے کہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں سمجھ سکتی ہوں کہ شناخت کے لیے ماسک اتارنے کے لیے کہا جا رہا ہے، لیکن میں اپنا حجاب کیوں ہٹاو¿ں؟انہوں نے ہسپتال میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حفاظتی خدشات کو دور کرنے کے لیے نگرانی کا نظام پہلے سے موجود ہے۔خاتون نے کہا کہ یہ پالیسی مسلمان خواتین کو نشانہ بنانے کے لئے جان بوجھ کر نافذ کی جا رہی ہے۔ دوسری خواتین کو بغیر کسی پابندی کے اندر جانے کی اجازت دی جا رہی ہے، صرف مسلمان خواتین کو ہی کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟ یہ واضح طورپر امتیازی اور ذلت آمیز سلوک ہے۔واقعے پرسوشل میڈیاپر بڑے پیمانے پر تنقید کی جارہی ہے اور بہت سے سوشل میڈیا صارفین، کارکنان اور مسلمانوں نے مذہبی لباس کو سیکیورٹی خدشات سے جوڑنے پر سوال اٹھایا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے مسلمانوں میں احساس عدم تحفظ بڑھ رہا ہے اور اسے اسلامی شناخت کے تئیں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی عکاسی ہوتی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button