
کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم حق خودارادیت منارہے ہیں جو نہ صرف ایک علامتی دن ہے بلکہ کشمیری عوام کے عالمی سطح پر تسلیم شدہ حق کو اجاگر کرنے کا ایک اہم موقع بھی ۔ کل جماعتی حریت کانفرنس نے اس دن کو منانے کی اپیل کی ہے تاکہ عالمی برادری کو یاد دلایا جا سکے کہ وہ کشمیری عوام کے ساتھ کیے گئے وعدوں اور اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے اپنی ذمہ داری نبھائے۔ مختلف احتجاجی مظاہروں، ریلیوں، سیمینارز اور عالمی سطح پر پروگرامز کا نعقاد کیا جارہا ہے تاکہ کشمیری عوام کو بھارت ہاتھوں درپیش غلامی اور مسلہ کشمیر حل نہ کئے جانے کے سبب جنوبی ایشیاء پیدا شدہ سنگینی کی جانب عالمی برادری کی توجہ مبذول کرائی جائے اور اسکی عدم فعالیت کا اسے احساس دلایا جائے۔
کشمیری عوام کا حق خودارادیت قانونی اور تاریخی طور پر 5 جنوری 1949 کی اقوام متحدہ کی قرارداد میں واضح طور پر تسلیم کیا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ جموں و کشمیر کا بھارت یا پاکستان کے ساتھ الحاق آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے طے کیا جائے گا۔ یہ قرارداد UNCIP (United Nations Commission for India and Pakistan) کے مذاکرات کا نتیجہ تھی جو 23 اور 25 دسمبر 1948 کو دونوں ممالک کے درمیان اقوام متحدہ کی ثالثی کے تحت طے پائے اصولوں کو اپنانے کے بعد منظور کی گئی۔ اس میں ارجنٹائن، بیلجیئم، کولمبیا، چیکوسلواکیہ اور امریکہ کی نمائندگی شامل تھی۔ 13 اگست 1948 کی جنگ بندی کے بعد یکم جنوری 1949 سے جنگ بندی نافذ ہوئی تھی، تاہم 78 سال گزرنے کے باوجود بھارت نے ان قراردادوں پر عمل درآمد نہیں کیا۔
5 جنوری کایہ دن دنیا کو یاد دلاتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کوئی سرحدی یا علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ ایک ایک قوم کی بقاء اور سیاسی شناخت کا مسئلہ ہے جسے عالمی برادری نے خود اس کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا تھا مگر افسوس! تقریبا 8 دہائیاں گزرنے کے باوجود اسی عالمی برادری نے اس وعدے کو فائلوں اور بیانات کی نذر کر دیا۔ 5 جنوری 1949 کی قرارداد نے واضح کیا تھا کہ ریاست ِجموں و کشمیر میں ایک آزاد، منصفانہ اور غیر جانبدار استصوابِ رائے اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں کرایا جائے گا جس کے لیے فوجی انخلا، پرامن ماحول اور اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ کو لازمی قرار دیا گیا تھا۔ یہ قرارداد اس بات کی ضمانت تھی کہ اس مسلہ کا حل طاقت نہیں بلکہ عوامی رائے کی بنیاد پر ہوگا۔
تاریخ گواہ ہے کہ خود بھارتی قیادت نے بھی اس اصول کو تسلیم کیا تھا۔ بھارت کے بانی کرم چندگاندھی سے لیکر جواہر لعل نہرو تک، اور اقوامِ متحدہ میں بھارتی نمائندوں سر بینیگل راما راؤ اور گوپال سوامی آئینگر تک، سب نے یہ بات تسلیم کی کہ کشمیر کے عوام کسی ریاستی سودے کا حصہ نہیں بلہر ایک زندہ قوم ہیں جنہیں اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے کا حق حاصل ہے۔ مگر جیسے ہی بھارت کو یہ خدشہ ہوا کہ کشمیری عوام شاید اس کے حق میں فیصلہ نہ کریں، وعدے کمزور پڑنے لگے، مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے اور استصوابِ رائے محض تقاریر تک محدود ہو کر رہ گیا۔
اسکے بعد بھارت نے سیاسی انجینئرنگ، دھوکہ دہی اور دیگر ریشہ دوانیوں کے ذریعہ اس معاملہ کو اپنے منشاء کے مطابق حل کرنے کی جبری کوششیں کیں۔ اندرا عبداللہ ایکارڈ اور جعلی انتخابات کے ذریعہ اپنے تسلط کو قانونی اور سیاسی جواز فراہم کرنے کی کوشش کی۔ کشمیریوں نے 45 سال تک بھارت کے سیاسی نظام کے اندر رہ کر پر امن طور پر حق خودارادیت حاصل کرنے کی کوشش کی مگر جب بھارت الٹا اپنے ناجائز تسلط کی جڑیں گہری کرتا گیا، عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ کو اٹوٹ انگ کہنا شروع کیا تو 1990 میں کشمیریوں نے تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مصداق بندوق اٹھائی جو اقوام متحدہ کے چارٹر کے عین مطابق تھی جو یہ کہتا ہے کہ اگرحق خود اردایت سیاسی اور پر امن ذرائع سے حاصل نہیں ہوتا تو مسلح جدو جہد روا ہے۔
بس پھر کیا تھا کہ بھارت نے فوراََ سے بیشتر 10 لاکھ فوج کشمیریوں پہ تھوپ دی اور ریاستی دہشت گردی اور اجتماعی سزاء کا وہ سلسلہ شروع کیا جو ہنوز جاری ہے۔ کی ایک چھوٹے سے خطہ زمین میں نہتے ، کمزور اور بے بس لوگوں کے خلاف 10 لاکھ فوج کے 35 سالہ استعمال کی مثال شائد کہیں نہ ملے۔ اب تک قریبا 97 ہزار کشمیری شہید کئے جاچکےہیں۔1 لاکھ 80 ہزار کشمیری گرفتار کئے گئے جن میں قریباََ 10 ہزار زیر حراست غائب کردئے گئے۔ 1 لاکھ 10 ہزار گھر تباہ کئے گئے، 11 ہزار سے زائد خواتین کی سیتا کے راون صفت پجاریوں نے عزت ریزی کی اور 1 لاکھ 8 ہزار بچوں کو یتیمی اور 22 ہزار خوتین کو بیوگی کی اذیت میں دھکیلا۔
بھارت نے عملا 5 جنوری 1949 کی مذکورہ قرار دا کی روح ، کہ مسلہ طاقت کے بجائے عوامی رائے سے طے ہوگا کو پامال کیا اور فوجی طاقت سے کشمیر کی تقدیر کی لکیریں کھینچنے کی مجرمانہ کوششیں کیں۔ قتل و غارت، گرفتاریاں، تشدد، کالے قوانین کا استعمال، توہین و تذلیل ، کشمیریوں کی دو نسلیں انہی حالات میں پلتی چلی آرہی ہیں۔یہ سب اس وعدہ خلافی کی قیمت ہے جو کشمیری ادا کر رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی رپورٹیں محض اعداد و شمار بیان کرتی ہیں، مگر ان اعداد کے پیچھے جو اذیت ہے وہ صرف کشمیری جانتے ہیں۔
5 اگست 2019 کے بعد صورتحال مزید ابتر ہوئی جب بی جے پی کی حکومت نے اپنے آئین کی دفعہ 370 اور 35A کو منسوخ کر کے جموں و کشمیر کی خصوصی اور ریاستی حیثیت بھی ختم کر دی۔ اس آئینی جارحیت سے مقبوضہ علاقہ عملا ایک کھلی جیل میں تبدیل ہوگیا اور کشمیری عوام کے رہے سہے سیاسی، مذہبی اور شہری حقوق بھی دبا دئے گئے۔ اس دوران، کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما ؤں، کارکنوں، انسانی حقوق کے علمبرداروں، صحافیوں، طلباء اور تاجروں سمیت ہزاروں کشمیریوں بشمول خواتین اور بچوں کےجیلوں میں ڈال دیا گیا جبکہ عام عوام کو بھی شدید سیاسی دباؤ، پابندیوں، نگرانی اور دیگر ریاستی جبر کی دیگر صورتوں کا سامنا ہے۔اس اقدام کے بعد بھارت نے کھل کر یہ ثابت کر دیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں، بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سب کو روندنے پر تُلا ہوا ہے۔ آبادیاتی تناسب کی تبدیلی، زمینوں کی ضبطی، سیاسی قیادت کی قید، اور اجتماعی سزائیں، یہ سب کشمیری شناخت مٹانے کی منظم کوششیں ہیں۔
کل جماعتی حریت کانفرنس نے اپنے بیانات میں بارہا کہا ہے کہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ خطہ ہے۔ کشمیری رہنماؤں نے عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو عملی جامہ پہنا کر مسئلہ کشمیر کا تاریخی اور منصفانہ حل یقینی بنائے۔ ان کے مطابق کشمیر کا دیرینہ تنازعہ جنوبی ایشیا میں ایٹمی فلیش پوائنٹ بن چکا ہے اور کسی بھی غیر فعال رویے سے خطے میں عدم استحکام اور خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
طرفہ تماشا دیکھئے کہ مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کے برعکس جنہیں اقوام متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری کے ذریعے آزادی ملی، کشمیری عوام بدستور حق خود اردایت سے محروم بھارتی جابرانہ تسلط اورظلم کی چکی میں پس رہے ہیں باوجود اسکے کہ اقوام متحدہ میں سب سے پرانا قضیہ یا کیس کشمیر ہی کا ہے۔
اقوام متحدہ کی قراردادیں، جن میں 13 اگست 1948 اور 5 جنوری 1949 کی قراردادیں شامل ہیں، کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی ضمانت فراہم کرتی ہیں۔ یہ قراردادیں واضح کرتی ہیں کہ کشمیری عوام کی رائے اور مستقبل کا فیصلہ کسی جبر، دباؤ یا فوجی طاقت کے ذریعے نہیں کیا جا سکتا۔ کشمیری عوام نے نسل در نسل اپنی مزاحمت سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے حق خودارادیت پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سول سوسائٹی کے نمائندے بھی اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ بھارت کی ہٹ دھرمی اور دھوکہ دہی کی پالیسی نے 78 برسوں سے پرامن تصفیے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پیدا کی ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اپنی 1949 کی قراردادوں پر عمل درآمد کرانے کے لیے بھارت کے تاخیری حربوں کا نوٹس لے اور کشمیری عوام کو ان کے حق خودارادیت دلانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔
نتیجتاً، یوم حق خودارادیت نہ صرف کشمیری عوام کے حق کی یاد دہانی ہے بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی ایک انتباہ ہے کہ وہ 78 سال سے التوا میں پڑے وعدے اور قانونی ذمہ داریوں کو نظر انداز نہ کرے۔ یہ دن کشمیری عوام کے جذبہ آزادی، استقامت اور بین الاقوامی سطح پر انصاف کے حصول کی کوششوں کی علامت ہے۔ عالمی برادری کو چاہئے کہ وہ تاریخی، قانونی اور اخلاقی تناظر میں کشمیر کے مسئلے کو حل کرے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو اور کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں۔






