بھارت

بھارتی تاجر کو امریکہ کی حساس ٹیکنالوجی روس منتقل کرنے کے جرم میں 30ماہ قید کی سزا

واشنگٹن/اسلام آباد:
امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے بھارت سے تعلق رکھنے والے 58سالہ تاجر سنجے کوشک کو امریکی حساس ٹیکنالوجی کی غیر قانونی طورپر روس منتقلی کے جرم میں ڈھائی سال کی قید کی سزا سنائی ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق نئی دلی سے تعلق رکھنے والے بھارتی تاجر سنجے کوشک کوحساس اور دوہری استعمال کی ٹیکنالوجی غیر قانونی طور پر روس منتقل کرنے کے جرم میں 17اکتوبر 2024کو میامی، فلوریڈا سے گرفتار کیا گیا تھا۔ امریکی ریاست اوریگون کے شہر پورٹ لینڈ میں امریکی ضلعی عدالت کی جج کرن جے اِمِرگٹ نے بھارتی تاجر کو 30ماہ قید اور اس کے بعد 36ماہ زیر نگرانی رہائی کی سزا سنا ئی ہے۔عدالتی دستاویزات کے مطابق، کوشک نے گزشتہ سال9اکتوبرکوایکسپورٹ کنٹرول ریفارم ایکٹ اورایکسپورٹ ایڈمنسٹریشن ریگولیشن کی خلاف ورزی کے جرم کو قبول کیا۔امریکہ کی حساس ٹیکنالوجی کی غیر قانونی منتقلی کے خلاف کارروائی بھارتی اداروں اور شخصیات پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔امریکی حکام بشمول محکمہ انصاف ، فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن، اور بیورو آف انڈسٹری اینڈ سیکیورٹی ان نیٹ ورکس پر نگرانی میں شدت لا رہے ہیں جو خاص طور پر بھارت کے اداروں سے متعلق ہیں اور جو امریکہ کے زیر کنٹرول ٹیکنالوجیز خاص طور پر فوجی استعمال کی دوہری استعمال والی اشیاکی روس اور چین سمیت پابندی والے ممالک کو برآمد میں سہولت فراہم کررہے ہیں۔ یہ مقدمہ امریکہ کی اس وسیع تر کارروائی کا حصہ ہے جس کے تحت امریکی محکمہ انصاف ، ایف بی آئی اور بیورو آف انڈسٹری اینڈ سکیورٹی بھارت میں قائم یا بھارت سے منسلک نیٹ ورکس کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں، جو امریکی کنٹرولڈ ٹیکنالوجیز کو روس اور چین جیسے پابندی والے ممالک میں برآمد کرنے میں سہولت فراہم کرتے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدامات قومی سلامتی، یوکرین میں روس کی جنگ کے تناظر میں پابندیوں کے نفاذ اور جدید دفاعی و ایوی ایشن ٹیکنالوجیز کے تحفظ کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق سنجے کوشک کا کیس ان متعدد ہائی پروفائل واقعات کی کڑی ہے جن میں بھارتی نژاد یا بھارت سے وابستہ افراد پر امریکی دفاعی، تکنیکی اور معاشی رازوں کے غلط استعمال یا غیر قانونی منتقلی کے الزامات ثابت ہوئے۔ ان واقعات نے امریکہ اور یورپی یونین میں اس تشویش کو مزید تقویت دی ہے کہ بھارت حساس دوہری استعمال کی ٹیکنالوجیز کی غیر قانونی دوبارہ برآمد کے لیے ایک ٹرانزٹ ہب کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے جاری کثیر الجہتی اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ بھارت کو ایک غیر معتبر شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور حساس ٹیکنالوجیز کو غیر مجاز غیر ملکی رسائی اور پابندیوں کی خلاف ورزی سے بچانے کے لیے سخت نگرانی اور قانونی کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button