بھارتی سپریم کورٹ کا مقبوضہ کشمیر میں 25کتابوں پر پابندی کے خلاف دائرعرضداشت پر سماعت سے انکار

نئی دلی:بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں 25علمی اور تاریکی کتابوں پر پابندی کے حکام کے فیصلے کے خلاف دائر عرضداشت پر سماعت سے انکار کر دیاہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق جسٹس سوریہ کانت، جویمالیا باغچی اور وپل ایم پنچولی پر مشتمل سپریم کورٹ کی تین رکنی بنچ نے درخواست گزار ایڈوکیٹ شاکر شبیر کو مقبوضہ جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ اس مسئلے کی جانچ کے لیے سب سے موزوں ہے۔
یادر ہے مقبوضہ جموںوکشمیر کے محکمہ داخلہ نے رواں ماہ کے آغاز میں 25ایسی کتابیں ضبط کرنے کا حکم دیا تھا جن میںاسکے مطابق علیحدگی پسند بیانیے کو فروغ دینے والا مواد موجود ہیں۔
ضبط کی جانے والی کتابوں میں کشمیر کی تاریخ اور اس کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت ، انسانی حقوق کی صورتحال پر کچھ معروف کشمیری، بھارتی اور عالمی مصنفین کی تصانیف شامل ہیں۔مصنفین میں محمد یوسف صراف، حفصہ کنجوال، ڈاکٹر عبدالجبار گوکھامی، ایسر بتول ، سیمار قاجی ، اے جی نورانی ، انگانا چٹر جی۔ ارون دھتی رائے ، ڈاکٹر شمشاد احمد ، عائشہ جلال ، ڈاکٹر آفاق ، رادھیکا گپتا اور دیگر شامل ہیں-






