بھارت کی ناقص خارجہ پالیسی ایک بار پھر عالمی سطح پر تنقید کی زد میں
پولینڈ کے نائب وزیراعظم نے دہشتگردی سے متعلق بھارت کا بیانیہ مسترد کردیا

نئی دلی:بھارت کی ناقص خارجہ پالیسی کو ایک بار پھر عالمی سطح پر تنقید کا سامنا ہے۔ ہندو انتہا پسند نظریات اور مبینہ ناکام سفارت کاری کے باعث بھارت کی عالمی سطح پر پوزیشن کمزور دکھائی دیتی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابقراڈوسواف سیکورسکی کے حالیہ بیان نے بھارت کے بیانیے کو چیلنج کر دیا ہے۔بھارتی جریدے دی ہندو کے مطابق نئی دلی میں ہونے والی ملاقات کے دوران بھارت اور پولینڈ کے درمیان سفارتی اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ بھارت کے دورہ کے دوران صحافیوں سے گفتگو میں پولینڈ کے نائب وزیراعظم نے کہاہے کہ روس میں ہونے والی زاپاد 2025فوجی مشقوں میں بھارت کی شرکت کوپولینڈ اور اس کے اتحادی ایک خطرہ سمجھتے ہیں ۔سیکورسکی نے کہا کہ اگرچہ دہشت گردی کے معاملے پر عمومی طور پر دونوں ممالک کی سوچ میں مماثلت پائی جاتی ہے، تاہم بھارت کے بعض اقدامات پر پولینڈ کو سنجیدہ تحفظات ہیں۔ ان کے مطابق یہ تحفظات خطے کے امن و استحکام سے وابستہ ہیں۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پولینڈ کے نائب وزیراعظم کا یہ بیان اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ بھارت کی خارجہ پالیسی تضادات کا شکار ہے اور بعض عالمی حلقوں میں اسے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔





