بھارت : اترپردیش میںمذہبی اقلیتوں کے خلاف کارروائیوں کاسلسلہ جاری،ایک اور پادری گرفتار
لکھنو:مودی کے بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف ظالمانہ کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے اورتازہ ترین واقعے میں ریاست اترپردیش میں ہندوانتہاپسندتنظیم بجرنگ دل کے ارکان کی شکایت پر مذہب تبدیل کرانے کے الزام میں ایک پادری کوگرفتار کیا گیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق پادری جوزتھامس کو جو کیرالہ کے شہر ترواننتا پورم کا رہنے والا اور اس وقت بہار کے شہر پٹنہ میں رہائش پذیرہے، اس وقت گرفتارکیاگیا جب وہ کرناٹک کے ضلع بلیا میںمبینہ طور پر 20 سے زائد خواتین اور بچوں کے ایک اجتماع سے خطاب کر رہاتھا۔حکام نے دعویٰ کیا کہ وہ مذہب کی تبدیلی سے منسلک سر گرمیوں کے لیے علاقے میں آیا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ 124 مذہبی کتابوں کے ساتھ موسیقی کے آلات اور مائیکروفون کو بھی قبضے میں لے لیاگیا۔ ریاست کے انسداد تبدیلی مذہب قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہے۔ پولیس نے بتایا کہ فنڈنگ کے ذرائع کا پتہ لگانے کے لیے اس کے بینک اکاو¿نٹس کی جانچ کی جائے گی۔یہ گرفتاری بھارت کے مختلف علاقوں میں مسیحی پادریوں کے خلاف اسی طرح کی کارروائیوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ گزشتہ ماہ ترواننتا پورم کے علاقے وٹاپارہ کے رہنے والے پادری البن کو پولیس نے کانپور کے قریب گھاٹم پور میں بجرنگ دل کے ضلع کنوینر شبھم شوریہ اگنی ہوتری کی شکایت پر گرفتارکیا تھا۔ ایک اور واقعے میں ریاست مہاراشٹر میں ضلع ناگپورکے علاقے شنگوڈی میں کرسمس کی دعائیہ تقریب کے دوران بجرنگ دل کے کارکنوں کی جانب سے تبدیلی مذہب کی سرگرمیوں کا الزام لگانے کی شکایت کے بعد پادری سدھیر کو اپنی بیوی جیسمین، رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔ بعدمیں مقامی عدالت نے سدھیر، اس کی بیوی اور گرفتار کئے گئے دیگر نو افراد کو ضمانت دے دی۔حالیہ گرفتاریوں نے ایک بار پھر مختلف بھارتی ریاستوں میں انسداد تبدیلی مذہب قوانین کے نفاذ کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان قوانین کو مذہب کی جبری تبدیلی کو روکنے کی آڑ میں مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں اور عیسائیوں کوڈرانے دھمکانے اور ہراساں کرنے کے لئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جس سے ان کمیونٹیز میں خوف ودہشت اوراحساس عدم تحفظ پیدا ہو رہا ہے۔






