بھارت کی طرف سے فیلڈ مارشل کے بیان کو توڑ مروڑ کرپیش کرنا خطے کے امن و استحکام کیلئے سنگین خطرہ
اسلام آباد:
بھارت پاکستان کے آرمی چیف، فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر کے امریکہ میں کیے گئے حالیہ خطاب کو توڑ مروڑ کر پیش کر کے خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہا ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر نے اپنے خطاب میں پاکستان کے روایتی دفاعی موقف کو دہراتے ہوئے واضح کیا تھا کہ اگر ریاست کی بقا کو کوئی خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان اپنے جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے جو کہ پاکستان کے جوہری نظریہ کا ایک بنیادی اصول ہے اور اسے دنیا بھر میں ایک جائز دفاعی حکمت عملی کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت نے اس دفاعی موقف کو جارحیت کے طور پر پیش کر کے ایک مرتبہ پھر جنوبی ایشیا میں کشیدگی کو ہوا دی ہے۔ بھارتی میڈیا اور حکومتی بیانات پاکستان کو ایک غیر ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کرنے کی سر توڑ کوشش کرر ہے ہیں ، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ پاکستان ہمیشہ صبر کا مظاہرہ کرتا آیا ہے ۔ بھارت فیلڈ مارشل کے اس متوازن اور ذمہ دارانہ موقف کو سمجھنے کی بجائے جان بوجھ کر شور مچارہا ہے ۔ بار بار پاکستان پر حملے اوراسے اشتعال دلا کر کوئی غلط قدم اٹھانے پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔ بھارتی جارحیت اور اشتعال انگیزی کے باوجودپاکستان نے ہمیشہ ضبط و تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے اوربھارتی سرحدی خلاف ورزیوں پر صرف دقیق، منظم اور موثر جوابی کارروائی کی ہے۔عالمی مبصرین کی رائے ہے کہ بھارت کا یہ موقف کہ وہ پاکستان کے جوہری دفاع سے "بلیک میل” نہیں ہوگا، محض سیاسی بیانیہ ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خودمتعدد بار اعتراف کر چکے ہیں کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان جوہری جنگ روکنے کے لیے مداخلت کی تھی۔ انکا بیان بھارت کے دعوئوں کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہے۔دفاعی تجزیہ کاروں کا مزیدکہنا ہے کہ نریندر مودی کی قیادت میں بھارت کی جانب سے پاکستان کی اسٹریٹجک صلاحیتوں کو کم تر سمجھنا ایک خطرناک غلطی ہے، جو نہ صرف بھارت بلکہ پورے خطے کے لیے تباہ کن نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔ اگر بھارت نے اشتعال انگیزیوں کا سلسلہ بند نہ کیا، تو جنوبی ایشیا کا امن شدید خطرے میں پڑ سکتا ہے۔پاکستانی قیادت اور مسلح افواج نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں، مگر ان کی اولین ترجیح ہمیشہ امن، استحکام اور خطے کی سلامتی ہے۔






