کوئٹہ:
کوئٹہ میں 27اکتوبر 1947کو ریاست جموں و کشمیر پر بھارتی غیر آئینی اور غیر قانونی قبضے کے خلاف ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے سیکریٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ دن کشمیرکی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، جب بھارت نے تمام بین الاقوامی قوانین، تقسیمِ برصغیر کے اصولوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کو روندتے ہوئے اپنی فوجیں کشمیر میں داخل کیں اور ایک آزاد و خودمختار ریاست پر فوجی طاقت کے ذریعے قبضہ کیا۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام نے بھارت کے ناجائز قبضے کو کبھی تسلیم نہیں کیا بلکہ اس کے خلاف ایک لازوال جدوجہد کا آغاز کیا جس کی پاداش میں لاکھوں کشمیری شہید اور ہزاروں کو لاپتہ کردیا گیا جبکہ سینکڑوں خواتین بیوہ اور بچے یتیم ہوئے، ہزاروں نوجوان پابندِ سلاسل ہیں اور سینکڑوں معصوم بچوں کو پیلٹ گنز سے بینائی سے محروم کردیا گیا۔انہوں نے کہا کہ جب بھارت نے اپنی تمام تر ریاستی طاقت کے باوجود کشمیریوں کے عزم کو توڑنے میں ناکامی کے بعد 5اگست 2019 کو ایک اور غیر آئینی شب خون مارااوردفعہ370اور35Aکے تحت حاصل جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر کے ریاست کو انتظامی اور جغرافیائی طور پر تقسیم کردیا۔مشتاق احمد بٹ نے کہا کہ اس کے بعد بھارت نے آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے ذریعے جموں وکشمیر کے مسلم اکثریتی شناخت کو ختم کرنے کی ناپاک سازش شروع کی اور 40لاکھ غیر ریاستی باشندوں کو جعلی ڈومیسائل جاری کرکے وادی میں آباد کیا جا رہا ہے تاکہ کشمیریوں کو ان کی اپنی سرزمین پر اقلیت میں بدلا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ان تمام ظالمانہ ہتھکنڈوں کے باوجود کشمیری عوام تحریک آزادی کشمیر سے دستبردار نہیں ہوئے۔ انہوں نے جدوجہد آزادی کو اسکے منطقی انجام تک جاری رکھنے کے کشمیریوں کے عزم کا اعادہ کیا ۔مشتاق احمد بٹ نے بلوچستان کے عوام اور مملکتِ خداداد پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام نے ہمیشہ کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کی بھرپور حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری شہدا کو پاکستانی پرچم میں دفن کیا جاتا ہے کیونکہ پاکستان کشمیریوں کے ایمان، عقیدے اور شناخت کا حصہ ہے۔ریلی میں بلوچستان کی سیاسی، مذہبی، سماجی جماعتوں کے رہنمائوں، طلبا تنظیموں، حکومتی نمائندگان اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکا نے ہاتھوں میں کشمیر کی آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جبکہ فضا "کشمیر بنے گا پاکستان،بھارت غاصب، کشمیر آزاد کرو” کے نعروں سے گونجتی رہی۔ریلی سے پروفیسر مصور کاکڑ، ایڈیشنل کمشنر عبداللہ ، صدر مسلم لیگ ن کشمیر ونگ مرزا شمشاد ا ور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔






