پاکستان

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کی کامیاب سفارتی کوششوں سے بھارت بوکھلاہٹ کا شکار

بھارتی میڈیا اورحکومتی حلقوں کی پاکستان مخالف منطم پروپیگنڈا مہم تیز

اسلام آباد:
مشرقِ وسطی میں جنگ بندی اورامریکہ اور ایران کے درمیان امن کے لیے پاکستان کی کامیاب سفارتی کوششوں نے بھارت کو بوکھلاہٹ کا شکار کر دیا ہے۔ بھارتی میڈیا اور حکومتی حلقوں نے پاکستان اور اس کی فوج کے خلاف منظم پروپیگنڈا مہم تیز کر دی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق8اپریل 2026کی جنگ بندی پیش رفت کے فورا بعد بھارتی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے غیر معمولی شدت کے ساتھ پاکستان مخالف بیانیہ پھیلانا شروع کر دیا۔ بھارتی اخبار ”دی ہندو ”میں 8اپریل کو” فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر کی مغربی ایشیا سفارت کاری کا قریبی جائزہ ”کے عنوان سے مضمون شائع کیاگیا، جس میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان ثالثی میں کامیاب نہیں ہوگا،” جنگ کو جرنیلوں پر نہیں چھوڑا جا سکتا” اور عالمی قوتیں سیدعاصم منیرکو اہمیت نہیں دیں گی۔تاہم اسی روز وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر کی قیادت میں پس پردہ سفارتی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی ممکن بنائی۔، جبکہ مذاکرات اب اسلام آباد میں دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ پاکستان نے مصر اور ترکیہ کے ساتھ مل کر جنگ کومزید بڑھنے سے روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ بھارت خود کو نیٹ سکیورٹی پروائیڈر کے طورپر ظاہر کرتا رہا، تاہم 2026کی ایران امریکاجنگ کے دوران اس کا طرزِ عمل اس کے دعوئوں کے برعکس رہاہے۔ ابتدائی حملوں اور ایرانی قیادت کی ٹارگٹ کلنگ پر بھارت کی خاموشی کو عالمی جنوب میں کشیدگی کی غیر اعلانیہ حمایت سمجھا گیا۔امن کے فروغ کے بجائے بھارت نے فروری 2026کے آخر میں وزیراعظم نریندر مودی نے اسرائیل کادورہ کر کے تعلقات کو خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری تک بڑھانے میں عجلت دکھائی، جس علاقائی استحکام کے برعکس محدود مفادات کو ترجیح دینے کی عکاسی ہوتی ہے ۔مبصرین کے مطابق کشیدگی کم کرنے کے بجائے بھارت نے دستاویزی شواہد پر پابندیاں عائد کیں ، داخلی آوازوں کو دبایا اور امن کی راہ میں رکاوٹ بنا رہا تاکہ غیر مستحکم قوتوں کے ساتھ اپنی صف بندی کو چھپا سکے۔عالمی برادری کو ناقابل متبادل بھارت کے مصنوعی بیانیے کو مسترد کرنا چاہیے۔ 2026کے تنازع نے واضح کر دیا ہے کہ جب دنیا کو جنگ روکنے اور سفارتی پیش رفت کے لیے ایک ذمہ دار کردار درکار ہوتا ہے تو توجہ اسلام آباد کی طرف جاتی ہے، جبکہ نئی دہلی اپنی ناکام اور جانبدار سفارت کاری کے نتائج سنبھالنے میں مصروف رہتا ہے اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت سے خائف دکھائی دیتا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button