خصوصی رپورٹ

بھارتی فوج کا جھوٹا بیانیہ: ایل او سی پر بےگناہ کشمیری کو عسکریت پسندوں کا سہولت کار بنا کر قتل

دلپذیر رانا

گزشتہ کئی دہائیوں سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) نہ صرف جموں و کشمیر کو تقسیم کر رہی ہے بلکہ سرحدی علاقوں میں بسنے والے بےشمار معصوم شہریوں کے لیے ایک قبرستان کا درجہ اختیار کر چکی ہے۔ جب بھی بھارتی فورسز ان سرحدی بستیوں میں مقامی افراد کو ہلاک کرتی ہیں، ایک طے شدہ بیانیہ فوراً تیار ہو جاتا ہے: مقتولین کو “دہشت گردوں کے سہولت کار”، “او جی ڈبلیو” یا “پاکستانی درانداز” قرار دیا جاتا ہے۔ یہ لیبلنگ نہ صرف ان کی شناخت چھین لیتی ہے بلکہ ان کی انسانیت کو بھی مٹا دیتی ہے اور قاتلوں کو احتساب سے محفوظ رکھتی ہے۔

حالیہ دنوں میں بانڈی پورہ کے گریس سیکٹر میں ایک بزرگ شہری، باگو خان المعروف “سمندر چاچا”، کی ہلاکت کو بھارتی میڈیا نے بڑے جوش و خروش کے ساتھ پیش کیا اور اسے ایک “بڑا دراندازی گائیڈ” قرار دیا، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ نوے کی دہائی سے عسکریت پسندوں کی مدد کرتا رہا۔ لیکن مقامی دیہاتی ان دعووں کو یکسر مسترد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بھارت ہر بار مقتول کو خطرناک بنا کر پیش کرتا ہے، بغیر کسی آزاد تحقیق یا شفاف ثبوت کے۔ ان کے نزدیک سمندر چاچا محض ایک عام دیہاتی تھا جو ایل او سی کے قریب ایک گاوں میں زندگی گزار رہا تھا۔

یہ کوئی نئی کہانی نہیں ہے۔ ماضی میں بھی بے شمار کشمیری اسی طرزِ عمل کا شکار ہوئے۔ 2010 میں مچھل فرضی مقابلے میں تین مزدور — شہزاد احمد، ریاض احمد اور محمد شفیع — کو روزگار کے بہانے سرحد پر لے جا کر قتل کیا گیا اور انہیں "پاکستانی عسکریت پسند” قرار دیا گیا۔ 2020 میں ہندواڑہ میں تین نوجوانوں کو عسکریت پسند ظاہر کر کے مارا گیا، لیکن عوامی احتجاج کے بعد حکام نے تسلیم کیا کہ وہ محض عام مزدور تھے۔ 2020 میں ہی شوپیاں میں راجوری کے تین مزدور — ابرار، امتیاز اور ابرار احمد — قتل کیے گئے اور پاکستانی درانداز قرار دیے گئے، مگر فوجی تحقیقات نے ظاہر کیا کہ یہ ایک جعلی مقابلہ تھا۔ ایل او سی کے قریبی دیہات میں لکڑیاں جمع کرنے یا مویشی چرانے والے شہری بھی اکثر ہلاک کیے جاتے ہیں اور بعد میں انہیں “دراندازی گائیڈ” قرار دے کر قتل کو جائز بنایا جاتا ہے۔

ان ہلاکتوں کے پیچھے ایک واضح مقصد چھپا ہے: بھارت اندرونِ ملک یہ تاثر قائم رکھنا چاہتا ہے کہ وہ مسلسل دہشت گردی کے خلاف لڑ رہا ہے، اور عالمی سطح پر مقتول کو عسکریت سے جوڑ کر خود کو تنقید سے بچاتا ہے۔

سب سے زیادہ بوجھ لواحقین پر پڑتا ہے۔ وہ نہ صرف اپنے پیاروں سے محروم ہوتے ہیں بلکہ ان کا نام ہمیشہ کے لیے "دہشت گرد” کے لیبل کے ساتھ سرکاری ریکارڈ میں درج ہو جاتا ہے۔ یہ داغ نہ صرف انصاف کے مطالبے اور قاتلوں کو کٹہرے میں لانے میں رکاوٹ بنتا ہے بلکہ کھل کر سوگ منانے میں بھی رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔

یوں ایل او سی کے نزدیک رہنے والے کشمیری ایک تلخ حقیقت کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں: یہاں ایک عام شہری کی جان کی کوئی قدر نہیں، اور مرنے کے بعد اس کی شناخت بندوق کی گولی سے نہیں بلکہ بھارتی فوجی بیانیے سے طے کی جاتی ہے۔ جب تک غیر جانبدار تحقیقات ان گھڑی ہوئی کہانیوں کی جگہ نہیں لیتی، کشمیری عوام دو بار مارے جاتے رہیں گے — ایک بار گولی سے اور دوسری بار جھوٹ سے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button