لہہ : مظاہرین پر بھارتی فورسز کی طرف سے طاقت کا وحشیانہ استعمال ، 4افراد جاں بحق ،70زخمی
سرینگر : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںو کشمیر کے خطے لداخ میں اپنے حقوق کیلئے احتجاج کرنے والے مظاہرین پر بھارتی فورسز کی طرف سے طاقت کے وحشیانہ استعمال سے کم سے کم 4 افرادجاں بحق اور 70کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق لہہ اپیکس باڈی کے یوتھ ونگ نے لداخ کو ریاست کا درجہ دینے اور چھٹے شیڈول کے نفاذ سمیت مطالبات کے حق میں آج علاقے میں ہڑتال کی کال دی تھی۔بھوک ہڑتال پر بیٹھے لوگوں میں سے دو کی حالت بگڑنے کے بعد انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔جس کے بعد مظاہروںمیں شدت آگئی ۔بھارتی فورسز اہلکاروں نے مظاہرین جن میں اکثریت طلباء کی تھی پر لاٹھی چارج ، آنسو گیس اورفائرنگ سمیت طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا ،جس سے کم سے کم 4افراد جاں بحق اور 70 زخمی ہو گئے،جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔ مشتعل مظاہرین نے پولیس پر پتھرائو،بھارتیہ جنتا پارٹی کے دفتر پر حملہ کیا اور دفتر کے باہر کھڑی پولیس کی ایک گاڑی نذر آتش کر دی۔
لداخ خطے سے تعلق رکھنے والے معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک ساتھیوں کے ہمراہ مطالبات کے حق میں 10 ستمبر سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ اگست2019میں مودی حکومت کی طرف سے جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد لداخ کو براہ راست طورپر نئی دلی کے کنٹرول میں دیدیاگیاتھا، جس کے بعد سے مقامی عوام لداخ کو ریاست کا درجہ دینے اورچھٹے شیڈول میں شمولیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کارگل ڈیموکریٹک الائنس سمیت مختلف تجارتی تنظیموں نے کل علاقے میں مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔








