مضامین

بھارتی فوجی قیادت کی خاموشی،ہندوتوا کا جن سر چڑھ کر بول رہا ہے

محمد شہباز نریندر مودی کی ہندتوا بی جے پی حکومت کے زیر اقتدار بھارت کی فوجی قیادت کی خاموشی نے بھارتی سلامتی پر سنگین سوالات کھڑے کیے ہیں۔ہندوتوا نظام اور پالیسی نے جہاں بھارت کے تمام اداروں بشمول بھارتی افواج کو مکمل طور پر اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، وہیں بھارتی فوجی سربراہاں کیلئے سچ بولنا بھی مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بنادیا ہے۔جس کی بنیادی وجہ نریندر مودی کی ہندتوا بی جے پی حکومت کی فسطائی پالیسیاں اور بھارت کو ہندو راشٹر میں تبدیل و اقلیتیوں سے پاک کرنا ہیں۔ بھارت میں اعلی فوجی افسران کی خاموشی اور سچائی کو دبانے کا عمل ایک تلخ حقیقت ہے، جو اب دنیا کے سامنے آچکی ہے۔ کیونکہ مودی حکومت نے جہاں بھارت کے تمام اداروں اور ان کے سربراہوں کو دھونس،دبائو،لالچ اور دوسرے حربوں کے ذریعے خاموش کرایا ہے،وہیں اپنے سیاسی ایجنڈے کے تحت اعلی فوجی افسران کی زبان بندی بھی کر دی ہے تاکہ اس کے اندرونی معاملات، خاص طور پر مقبوضہ جموں وکشمیر اور سرحدی تنازعات کی زمینی حقیقتوں کو دنیا سے اوجھل رکھا جا سکے۔ اس بات کا انکشاف سابق بھارتی فوجی سربراہ جنرل ایم ایم نروانے نے اپنی یادداشت Four Stars of Destiny میں کیا ہے، جس میں 2020 کے لداخ تنازعے، اگنی پتھ اسکیم کے اچانک نفاذ اور سرحدی بدانتظامی جیسے تلخ حقائق کو بیان کیا گیا ہے۔ مگر ان کھلے حقائق اور سچائی کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوششیں بھارتی وزارت دفاع کی جانب سے مسلسل سیکیورٹی کلیئرنسز کے بہانے روک دی جاتی ہیں، تاکہ مودی حکومت کی ناکامیوں پر پردہ ڈالا جا سکے۔ جنرل نروانے نے Four Stars of Destiny میں 2020 کے لداخ تنازعے کی حقیقت کو کھول کھول کر بیان کیا ہے۔ جب چین نے بھارتی سرحد کے قریب اپنی فوجی موجودگی بڑھائی اور ٹینک بھارتی حدود کے قریب پہنچائے، تو اس وقت بھارتی فوجی قیادت کو فوری اور واضح احکامات کی ضرورت تھی۔ مگر انہیں مودی حکومت کی جانب سے کوئی کھلی اور واضح ہدایات نہیں ملیں۔ جنرل نروانے نے بار بار بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ، نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت دوول، چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے رابطہ کیا، اور سوال کیا: "ان کیلئے احکامات کیا ہیں؟ جواب ہمیشہ ایک ہی آیا: "اوپر سے کلیئرنس ملنے تک فائر نہ کیا جائے۔یہ جواب اس بات کا غماز تھا کہ بھارتی افواج اور مودی حکومت کے درمیان عدم ہم آہنگی اور عدم اعتماد کی سنگین فضاء قائم اور موجود تھی، جس کی وجہ سے بھارتی فوجی قیادت میدان جنگ میں کوئی فوری اور موثر کارروائی کرنے میں یکسر ناکام رہی۔اسی عدم ہم آہنگی نے بھارتی افواج کے عمل کو مفلوج کرکے رکھ دیا، جس کے نتیجے میں چین کیساتھ سرحدی کشیدگی کے دوران بھارتی فوجی قیادت پوری طرح سے بے بس دکھائی دی،اور تو اور 21 بھارتی فوجی بشمول ایک کمانڈنگ آفیسر کرنل سنتوش بابو بھی ہلاک کردیئے گئے۔ اس دوران بھارتی سیاسی قیادت کی جانب سے غیر واضح ہدایات اور پالیسی کی ہچکچاہٹ نے بھارتی افواج کیلئے جنگی حکمت عملی وضع کرنے میں بے پناہ مشکلات پیدا کر دیں۔ صرف چند گھنٹوں بعد، ایک مبہم ہدایت دی گئی کہ "جو مناسب سمجھو، وہ کرو”، جو نہ صرف حکومتی فیصلوں کی غیر واضح نوعیت کو ظاہر کرتی ہے، بلکہ اس بات کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ بھارتی فوجی حکمت عملی اور سیاسی قیادت کے درمیان گہری خلیج موجود ہے۔ جنرل نروانے کی یادداشت Four Stars of Destiny میں بیان کیے گئے ان تلخ حقائق کو بھارتی وزارت دفاع نے 2023-24 میں مسلسل سیکیورٹی کلیئرنسز کے بہانے روک دیا، تاکہ یہ حقیقت عوامی سطح پر ظاہرنہ ہو سکیں۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مودی حکومت نہ صرف اپنے سیاسی ایجنڈے کے تحت اپنی ہی فوجی قیادت کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے، بلکہ وہ داخلی اور بین الاقوامی سطح پر سچ کو چھپانے کی بھی بھرپور تگ و دو کر رہی ہے۔ جنرل نروانے جیسے اعلی فوجی افسران بھی اپنے تجربات اور حقائق کو بیان کرنے میں بے بس ہیں، کیونکہ مودی حکومت کی جانب سے ان کی یادداشت کی اشاعت پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔جس کا مقصد صرف حکومتی ساکھ کو بچانا اور اپنی ناکامیوں کو چھپانا ہے۔یہ گھمبیر صورتحال بھارتی افواج کی ساکھ پر سوالات اٹھاتی ہے اور اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مودی حکومت فوجی قیادت کو خاموش کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔ بھارتی فوجی افسران، جو ملکی دفاع اور سلامتی کے حوالے سے اہم فیصلے کرنے سے عاری ہیں، وہ اب اپنی آواز بلند کرنے میں بھی ناکام ہیں، بھارتی حکومت نے ان کی اظہار آزادی رائے کو سلب کر لیا ہے۔2 فروری 2026 کو بھارتی لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ان دبے ہوئے حقائق کو بھارتی عوام کے سامنے اجاگر کرنے کی کوشش کی،لیکن مودی حکومت کے وزراء راجناتھ سنگھ اور امت شاہ نے ایوان میں شدید ہنگامہ برپا کیا اور سپیکر سے ایوان کی کارروائی ملتوی کروادی۔یہ ایک اور ثبوت ہے کہ مودی حکومت سچ کا گلہ گھوٹنے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔یہ بھی ایک کھلی حقیقت ہے کہ نریندر مودی کی حکومت اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے سینئر فوجی افسران کو خاموش کرناچاہتی ہے،اور اس کیلئے وہ فوجی قیادت کی آواز کو مسلسل دبا رہی ہے۔بھارت میں آرمی چیف اس قدر بے بس ہیں کہ غالب ہندوتوا نظام کے تحت وہ سچ بولنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ مودی کے بھارت میں سیاسی تذبذب نے سو ل ملٹری خلیج کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد صرف بھارت کی داخلی سیاست میں اپنی حکومتی گرفت کو مضبوط کرنا اور عالمی سطح پر بھارت کی شبیہ کو داغدار ہونے سے بچانا ہے۔کیونکہ بی جے پی بھارت میں جس طرز حکمرانی کو پروان چڑھارہی ہے،وہ ایک خوفناک منظر کی تصویر کشی ہے،جس کیلئے سب سے پہلے بھارتی الیکشن کمیشن کو بے دست پا بناکر اپنے ہی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار Gyanesh Kumar کو بھارتی جمہوریت کی بساط لپیٹنے کیلئے خاموش کرادیا گیا ہے۔بھارت میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) 2026 ایک اہم انتخابی فہرست کی تازہ کارستانی ہے جو نو ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام تین علاقوں پر محیط ہے، جس کا ہدف 510 ملین سے زیادہ ووٹرز ہیں۔یہ جمہور کش کاروائی نامی گناہ بے لذت بھارتی الیکشن کمیشن انجام دے رہا ہے، اس کا مقصد اقلیتوں باالخصوص مسلمانوں کے نام ووٹر فہرستوں سے نکلوانا ہے،دوسرے مراحل میں جن ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایس آئی آر پر عملدر آمد کیا جارہا ہے، ان میں انڈمان اور نکوبار جزائر، لکشدیپ، چھتیس گڑھ، گوا، گجرات، کیرالہ، مدھیہ پردیش، پڈوچیری، راجستھان، تامل ناڈو، اتر پردیش اور مغربی بنگال شامل ہیں۔ان ریاستوں میں 2026 میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ آسام میں بھی 2026 میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ آسام میں شہریت ترمیمی قانون کی ایک الگ شق لاگو ہوتی ہے۔بھارتی الیکشن کمیشن پوری دنیا میں بدنام ہوچکا ہے،مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بینرجی نے بھارتی الیکشن کمیشن کے سربراہ گیانیش کمار کو جہاں خوب لتاڑا ہے،وہیں الیکشن کمیشن کی ڈائریکٹر جنرل Seema Khanna کو بی جے پی آئی ٹی سیل کا کارندہ قرار دیکر اس پر 58لاکھ نام ووٹر فہرستوں سے نکالنے کا الزا م عائد کیا ہے۔بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ اگر یہ کہتے ہیں کہ بھارت کی اپوزیشن جماعتیں 2047تک انتظار کریں ،تو یہ بیان بے جا نہیں ہے ۔ایسے میں اگر بھارتی فوجی سربراہاں کی زبان بندی کی گئی ہے،تو یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے۔ مودی حکومت کی اس پالیسی کا ایک اور پہلو بھی ہے ، پاکستان اور تحریک آزادی کشمیر کو بدنام کرنے کی غرض سے بھارت کی فوجی قیادت کو خاموش رکھا جائے اور یہ کوششیں بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں کیونکہ بھارتی حکومت تحریک آزادی کشمیر کو پاکستان کیساتھ جوڑ کر بین الاقوامی سطح پر اسے بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بھارتی میڈیا اور سیاستدان مسلسل اس پروپیگنڈے کو فروغ دے رہے ہیں کہ پاکستان تحریک آزادی کشمیر کی پشت پناہی کررہا ہے، حالانکہ تحریک آزادی کشمیر اہل کشمیر کی اپنی برپا کردہ تحریک اورجدوجہد ہے۔ جس میں اب تک لاکھوں کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں۔مودی حکومت کا یہ دعوی عالمی سطح پر کبھی پذیرائی حاصل نہیں کر سکا، کیونکہ دنیا جانتی ہے کہ تحریک آزادی کشمیرکی جڑیں کشمیری عوام کے اندر موجود اور اس سلسلے میں بھارت کا یہ دعوی صرف ایک جھوٹ ہے۔نریندر مودی کی حکومت میں بھارت کی فوجی  اور سیاسی قیادت کے درمیان ہم آہنگی کی کمی نے بھارتی سیاست کو ایک بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ بھارتی فوجی افسران اس قدر بے بس ہو گئے ہیں کہ وہ حکومت کے سیاسی ایجنڈے کے مطابق کام کرنے پر مجبور ہیں۔ اس کا اثر نہ صرف بھارتی افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر پڑرہا ہے، بلکہ ملکی سلامتی اور سیاست پر بھی  مضر اثرات مرتب ہو ر ہے ہیں۔ جب اعلی سطح پر سیاسی قیادت اپنی افواج کے آپریشنل فیصلوں میں رکاوٹ بنے، تو ملکی دفاع اور سلامتی کو ایک سنگین خطرہ لاحق ہو جانا ایک یقینی امر ہے۔ ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ جب مودی حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے فوجی قیادت کو خاموش کر دیتی ہے، تو ملکی سلامتی کا کیا ہوگا؟ کیا بھارت اپنے قومی مفاد کی حفاظت کرپائے گا، جب بھارتی فوجی قیادت کی آزادی سلب کر کے حکومتی احکامات کے تابع کیا جائے؟ یہ ایک سنگین سوال ہے جس کا جواب صرف بھارتی عوام کو ہی تلاش کرنا ہوگا۔
Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مزید دیکھئے
Close
Back to top button