مضامین

"ثقافتی، روحانی، تجرباتی سیاحت” کے نام پرکشمیر میں تہذیبی یلغار کی نئی صورت

تحریر: ارشد میر
بھارت کے مرکزی وزیرِ سیاحت و ثقافت گجیندر سنگھ شیخاوت کی جانب سے سری نگر میں ہونے والی کانفرنس میں یہ کہنا کہ کشمیر صرف قدرتی مناظر کا خطہ نہیں بلکہ ایک "ثقافتی، روحانی اور تجرباتی” مقام ہے، بظاہر ایک مثبت سیاحتی تصور کا اظہار ہو سکتا ہے۔ تاہم جب اس بیان کو موجودہ سیاسی و جغرافیائی حالات، خصوصاً 5 اگست 2019 کے بعد بھارتی پالیسیوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بھارت 10 لاکھ فوک کے بل پر جموں و کشمیر کی سرزمین کو صرف اپنے تسلط ہی میں نہیں رکھ رہا بلکہ اسکو ہمیشگی بخشنے کے لئے اس کی تاریخ، تہذیب، شناخت اور Demography کو بھی اپنے مطابق ڈھالنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
جب 5 اگست 2019 کو بھارت نے دفعہ 370 اور 35A کو منسوخ کرتے ہوئے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کی، تو یہ صرف ایک قانونی اقدام نہیں بلکہ ایک وسیع تر ہندوتوا نظریے کا عملی اظہار تھا، جس کا مقصد مقبوضہ علاقے کو مکمل طور پر بھارتی وفاق میں ضم ، اس کے مسلم اکثریتی تشخص کو کمزور اور اس کی زمین، وسائل اور تہذیب پر بھارتی اجارہ داری قائم کرنا تھا۔ شیخاوت کا حالیہ بیان اسی منصوبہ بند تہذیبی یلغار کی ایک قسط ہے جس میں کشمیر کی "شناخت” کو ازسرنو متعین کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
شیخاوت کے مطابق کشمیر کی شناخت صرف ڈل جھیل، گلمرگ، پہلگام یا سونمرگ تک محدود نہیں بلکہ اس کے "روحانی پہلوؤں” کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جانا چاہیے۔ اس بات کا ظاہری مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ بھارت کشمیری ثقافت کے تنوع کو فروغ دینا چاہتا ہے، لیکن جب وہ بھدرواہ کے شیو مندر اور ہندو مذہبی مقامات کو بطور مثال پیش کرتے ہیں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ بھارت کا مقصد مقبوضہ علاقہ کے مسلم تشخص کو مٹانا اور ایک ہندوانہ تہذیب کو مسلط کرنا ہے۔ کشمیر کی ہزاروں سال پرانی اسلامی ثقافت، صوفی ورثہ، تاریخی مساجد، خانقاہیں اور عیدگاہیں شیخاوت کی تقریر میں کہیں موجود نہیں۔
بھارت کی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں جس طرح زمین اور جائیداد کی ضبطی کی پالیسی اپنائی ہے، وہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مقصد صرف سیاحت یا ترقی نہیں بلکہ مسلم اکثریتی تشخص کو بدلنا ہے۔ لاکھوں غیر ریاستی بھارتیوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹس دیے جا چکے ہیں، جن کی بنیاد پر انہیں زمینیں الاٹ کی جا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمتوں میں کشمیری مسلمانوں کو نکالا جا رہا ہے یا نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ کئی ملازمین کو محض ان کے “سوشل میڈیا بیانات” کی بنیاد پر ملازمت سے برخاست کر دیا گیا۔
کشمیری بچوں کے ذہنوں پر بھی اس تہذیبی یلغار کی تلوار چلائی جا رہی ہے۔ اسکولوں اور کالجوں میں بھارتی قومی بیانیے کو داخل کیا جا رہا ہے۔ اسلامی تاریخ، ڈوگرہ راج سے آزادی کی تحریک کے واقعات جن میں 13 جولائی 1931 کا واقع ناقابل فراموش ہے،سے متعلق ابواب کو نصاب سے نکالا جا چکا ہے۔ ان کی جگہ ہندوتوا کے نکتۂ نظر سے مرتب کردہ مضامین کو شامل کیا گیا ہے، جس سے کشمیری نوجوانوں کی فکری و نظریاتی ساخت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
جہاں ایک جانب امرناتھ یاترا کے لیے ریاستی وسائل کا بے دریغ استعمال ہو رہا ہے، وہںی دوسری طرف مساجد، عیدگاہیں اور مذہبی اجتماعات کو سخت ترین پابندیوں کا سامنا رہتاہے۔ عیدین کے مواقع پر جامع مسجد سری نگر کو بند کر دینا معمول بن چکا ہے، جب کہ امرناتھ یاترا کے دوران مقامی کشمیریوں کی نقل و حرکت کو محدود کیا جاتا ہے، اور کئی علاقوں کو "یاترا زون” قرار دے کر وہاں کی مسلمان آبادی کو حاشیے پر دھکیلا جا رہا ہے۔ یہ مذہبی تفریق اور امیاکزی پالیسی درحقیقت ایک خالص ہندو ریاست کے قیام کی طرف بڑھتا ہوا قدم ہے۔
کئی تاریخی مقامات کے نام تبدیل کیے جا چکے ہیں۔ اسلامی ثقافت کی پہچان بنے ہوئے علاقوں، گلیوں، تعلیمی اداروں اور عوامی مراکز کو ایسے ہندوانہ نام دیے جا رہے ہیں جو مقامی تاریخ سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔پرانے بوسیدہ مندوں اور غاروں کا احیاء کیا جارہا ہے جبکہ جگہ جگہ مندر قائم کئے جارہے ہیں باوجود اس کے کہ ان مندروں کے بیسیوں کلو میڑ کے دائرے میں کوئی ہندو نہیں رہتا۔ اس سارےعمل کا مقصد کشمیریوں کی اجتماعی یادداشت کو مسخ کرنا اور نئی نسل کو ان کی اصل تہذیب و تاریخ سے کاٹ دینا ہے۔
گجیندر سنگھ شیخاوت نے جس "ایکسپیرینشل ٹورزم” کی بات کی ہے، وہ درحقیقت ثقافتی استعمار کا نیا ہتھیار ہے۔ اس کے ذریعے بھارتی ریاست کشمیر کو ایک "روحانی مقام” کے طور پر پیش کر رہی ہے، لیکن اس روحانیت میں صرف ہندومت کے عناصر کو شامل کیا جا رہا ہے۔ کشمیرکی اسلامی تہذیب، اس کی خانقاہی روایت، اور صوفیاء کا ذکر تک نہیں کیا جاتا۔ بھارت یہاں کے مذہبی و ثقافتی مراکز کو سیاحتی مقامات میں تبدیل کر کے نہ صرف ان کی روحانی حیثیت کو پامال کر رہا ہے بلکہ ان پر اپنا "قانونی و انتظامی قبضہ” بھی مضبوط کر رہا ہے۔
یہ سب اقدامات اس لیے بھی کیے جا رہے ہیں تاکہ عالمی سطح پر یہ تاثر قائم کیا جا سکے کہ کشمیر ایک پُرامن، روحانی اور سیاحتی مقام ہے جہاں اب سب کچھ نارمل ہے۔ شیخاوت جیسے بیانات کا مقصد مغربی میڈیا اور سیاحوں کو یہ دکھانا ہے کہ کشمیر اب ایک "روحانی تجربے” کی آماجگاہ ہے، نہ کہ ایک مقبوضہ خطہ جہاں قریب از 10لاکھ بھارتی فوج کی موجودگی عوامی مزاحمت کو خون میں نہلا رہی ہے۔
بھارتی ریاست نے کشمیری عوام کو ان کے اپنے قدرتی وسائل سے بھی محروم کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہائیڈرو پاور پروجیکٹس سے حاصل ہونے والی بجلی بیرونِ کشمیر بھیجی جاتی ہے، جب کہ مقامی آبادی کو لوڈشیڈنگ کا سامنا رہتا ہے۔ دریاؤں، جنگلات اور زمینوں پر ریاستی قبضہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اب سیاحت بھی ایک ایسا شعبہ بن گیا ہے جس میں مقامی کشمیریوں کی شراکت کم سے کم ہو رہی ہے، جب کہ باہر سے آنے والے سرمایہ کار اس شعبے پر چھا رہے ہیں۔
گجیندر سنگھ شیخاوت کا بیان صرف ایک سیاحتی پالیسی کا اعلان نہیں بلکہ ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہے، جس کے ذریعے بھارت کشمیر کی تہذیب، تاریخ، معیشت اور demography کو تبدیل کر رہا ہے۔ "روحانیت”، "تجرباتی سیاحت” اور "ثقافتی تنوع” جیسے خوبصورت الفاظ کے پیچھے درحقیقت ایک ایسی پالیسی چھپی ہے جو کشمیری شناخت کو مٹانے، ہندوتوا بیانیے کو مسلط کرنے، اور بھارت کے قبضے کو "نارملائز” کرنے کی کوشش ہے۔
یہ صرف کشمیر کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ ایک ملک کیسے ایک خطے کی تاریخ کو مٹا کر اسے اپنے نظریے کے مطابق "دوبارہ تخلیق” کرنے پر تلا ہوا ہے۔ کشمیر میں جاری جدوجہدِ آزادی صرف زمین کے لیے نہیں، بلکہ اپنی تہذیب، شناخت، تاریخ اور مستقبل کو بچانے کی جنگ ہے۔ شیخاوت جیسے بیانات کو اسی تناظر میں پرکھنے کی ضرورت ہے — کیونکہ یہ صرف سیاحت نہیں، بلکہ "تسلط کا نیا روپ” ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button