مقبوضہ کشمیر کی سیاحت کو بھارتی قبضے میں تباہی کا سامنا : ہوٹل مالکان، ٹرانسپورٹرپریشیانی سے دوچار

سری نگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جانے والا سیاحت کا شعبہ شدید بحران سے دوچار ہے۔ہوٹل مالکان اور ٹرانسپورٹر شدید پریشان ہیں اور کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے انکی روزی روٹی خطرے میں پڑ گئی ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مسلسل سیاسی غیر یقینی صورتحال اور مودی کی جابرانہ کارروائیوں کی وجہ سے علاقے میں پائے جانے والے عدم تحفظ کے احساس کے باعث سیاحت زوال کا شکار ہے۔ ہوٹل والوں نے کام کی شرح میں 70 فیصد سے زائد کی کمی بیان کی ہے، جب کہ سرینگر کی شہرہ آفاق جھیل ڈل میں کشتیاں چلانے والے، ٹیکسی ڈرائیور، دستکاری بیچنے والے، اور ہوٹل مالکان اپنی بقا کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ سیاحت سے وابستہ کئی کاروبار تباہی کے دہانے پر ہیں۔
متاثر لوگوں نے جموں و کشمیر ٹورازم اینڈ الائیڈ بزنس فورم (جے کے ٹی اے بی ایف ) کے نام سے ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیا ہے جس کی سربراہی مشتاق چایا کر رہے ہیں۔ اس فورم کا مقصد بحالی کی کوششوں کو مربوط کرنا اور حکام کے سامنے سیاحت کی صنعت کی حالت زار کو اجاگر کرنا ہے۔مشتاق چایا کا کہنا ہے کہ عدم تحفظ کے مسلسل احساس نے سیاحت کے شعبے کو تباہ کر دیا ہے۔ "ہوٹل خالی ہیں، ٹیکسی اور شکارا آپریٹرز جدوجہد کر رہے ہیں، اور دستکاری اور ریستوراں جیسے متعلقہ شعبوں کو شدید نقصان کا سامنا ہے۔ سیاحت ہزاروں خاندانوں کو سہارا دیتی ہے اور کشمیر کی معیشت کے لیے ضروری ہے۔کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر جاوید احمد ٹینگا نے کہا کہ سیاحتی صنعت کو فوری مالی تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاحت کشمیر کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ رواں برس اپریل میں پیش آنے والے پہلگام واقعے کے بعد سے یہ شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔جموں و کشمیر ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن کے صدر بابر چودھری نے کہا کہ سیاحت کی صنعت کو زوال کا سامنا ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر معاملے کی طرف فوی توجہ نہ دی گئی تو سیاحت سے منسلک ہزاروں افراد بدحالی کا شکار رہیں گے۔KMS-04/M








