بھارت

"آپریشن سندور”کی ناکامی : عالمی سطح پر شرمندگی چھپانے کیلئے نریندر مودی کاآسیان سمٹ میں شرکت سے انکار

مودی نے سوالات اور تنقید سے بچنے کیلئے سمٹ میں ورچل شرکت کا بہانہ بنا لیا

نئی دلی:
"آپریشن سندور” کی شرمناک ناکامی کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی سفارتی پوزیشن ، عالمی ساکھ اور اثر و رسوخ دن بہ دن کمزور ہوتا جا رہا ہے۔نریندر مودی عالمی سطح پر اپنا چہرہ دکھانے سے گریز کر رہے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق آپریشن سندور کی ناکامی کے بعد نریندر مودی نے عالمی سطح پر اپنی شرمندگی چھپانے کیلئے 26سے 28اکتوبرتک کوالالمپور میں آسیان سمٹ میں شرکت سے انکار کرکے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کا ایک سنہری موقع گنوادیاہے ۔نریندر مودی نے سوالات اور تنقید سے بچنے کے لیے سمٹ میں ورچوئل شرکت کا بہانہ بنایاہے اور دیوالی کی تقریبات کو اپنی غیر موجودگی کی وجہ قرار دیاہے۔نریندر مودی اس سے قبل امریکہ ،جی7 سمٹ، کینیڈا اور یورپی ملکوںکروشیا، ناروے، نیدرلینڈز کے دورے بھی ملتوی کرچکے ہیں ۔نریندرمودی کی عالمی سطح پر پسپائی بھارت کے سیاسی بحران اور عالمی ساکھ کی کمزوری کا واضح ثبوت ہے۔ امریکہ کا دورہ ملتوی کرنے اورصدر ٹرمپ سے ملاقات نہ کرنا، نریندر مودی کی سیاست کی پسپائی کو ایک اور واضح مثال ہے۔مودی کے عالمی دوروں میں ناکامی کی ایک اور وجہ بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی تعلقات میں شدید کشیدگی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کی طرف سے روس سے تیل کی خریداری جاری رکھنے پر 50فیصد اضافی ٹیرف عائد کیاہے ۔ صدر ٹرمپ آپریشن سندو ر میں بھارت کی ناکامی اور پاکستان کی طرف سے جنگ میں بھارتی طیارے مار گرائے جانے کا متعدد بار دعویٰ کر چکے ہیں ۔ حال ہی میں اوول آفس میں دیوالی کی تقریب کے دوران نریندر مودی سے ٹیلی فون پر گفتگو میں انہوں نے بھارتی وزیر اعظم پر واضح کیاکہ پاکستان سے کسی صورت جنگ نہیں ہونی چاہیے۔امریکی ٹیرف کے بعد بھارتی معیشت اور سفارتی موقف دونوں کوشدید دھچکا پہنچاہے۔ نریندر مودی نے صدر ٹرمپ کو یقین دلایا کہ بھارت روسی تیل کی خریداری کم کرے گا، لیکن بھارت اپنا وعدہ وفا کرنے میں ناکام رہا ، جس سے عالمی سطح پر بھارت کی ناقابل اعتماد شبیہ مزید واضح ہو گئی۔ماہرین کے مطابق، آسیان سمٹ میں نریندر مودی کی ورچوئل شرکت سے بھارتی سیاست کی کمزوری اور عالمی سطح پر بڑھتا ہوا دبائو واضح ہوتا ہے ۔نریندر مودی نے اپنی سیاسی ناکامیوں اور خوف کی وجہ سے عالمی سطح پر مزید شرمندگی سے بچنے کے لیے ذاتی طور پر سمٹ میں شرکت سے گریز کیا۔ نریندرمودی اپنے سیاسی مفادات کی خاطر حقیقی سفارتی چیلنجز سے فرار اختیار کر رہے ہیں،جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اب عالمی سیاست میں ایک کمزور کھلاڑی بن چکے ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button