مدھیہ پردیش میں ہائوسنگ اسکیم کیلئے رقم کی واپسی کے مطالبے پر دلت خاتون پر وحشیانہ تشدد

بھوبال:مودی کے بھارت میں ذات پات پر مبنی امتیازی تشدد کے بڑھتے واقعات کے سلسلے میں ایک اور شرمناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب مدھیہ پردیش کے ضلع چھترپور میں ایک دلت خاتون کو سرکاری رہائشی اسکیم کی رقم واپس مانگنے پر گاؤں کے سرپنچ اور اس کے ساتھی نے سرعام تشدد کا نشانہ بنایا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق واقعہ منیٹھا گاؤں کی ایک مصروف شاہراہ پر دن کے وقت پیش آیا جس سے راہگیروں نے ویڈیو میں ریکارڈ کرلیا ۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوامی سطح پر شدید غم و غصے اور مذمت کا اظہار کیا جارہا ہے۔
متاثرہ خاتون کی شناخت شانتی اہیروار کے نام سے ہوئی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتاہے کہ وہ زمین پر گری ہوئی ہے جبکہ حملہ آور اس کے ہاتھ پکڑ کر تشدد کررہا تھا۔ موقع پر موجود کئی لوگ یہ منظر دیکھتے رہے لیکن کسی نے مداخلت نہیں کی۔
رپورٹوں کے مطابق، شانتی نے سرکاری اسکیم کے تحت گھر حاصل کرنے کے لیے راجکمار ساہو کو 10 ہزار روپے دیے تھے، لیکن جب اسے وعدے کے مطابق گھر نہیں ملا تو اس نے رقم واپس مانگی، جس پر اسے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔شانتی نے پولیس میں باضابطہ شکایت درج کی تاہم پولیس نے تاحال کسی قسم کی کارروائی نہیں کی۔








