بھارت : ہندو نوجوانوں کی مندرمیں” آئی لو محمد”لکھ کر مسلمان نوجوانوں کو پھنسانے کی کوشش
نئی دہلی:بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر علی گڑھ میں گزشتہ ہفتے دو مندروں کی دیواروں پر اسپرے پینٹ سے” آئی لو محمد”لکھنے میں ہندو نوجوان ملوث پائے گئے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق پولیس نے بتایا کہ اس واقعے کے پیچھے ہندو نوجوانوں کا ہاتھ تھاجنہوں نے اپنے مخالفین کو پھنسانے کے لیے یہ حرکت کی تھی۔آلٹ نیوز کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں سوشل میڈیا پر دو مندروں کی دیواروں پراسپرے پینٹ سے لکھے گئے ”آئی لو محمد” کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوئیں جس سے فرقہ وارانہ کشیدگی پیداہو گئی۔ ایک ویڈیو میں اسے ریکارڈ کرنے والے شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ یہ مناظر اتر پردیش کے بلاک گڑھی گائوں کے شیو مندر کے ہیں۔بعد میں ہندو انتہاپسندوں نے ان تصاویر اور ویڈیوز کو شیئر کیا اور مندر کی بے حرمتی کا الزام مسلمانوں پر لگایا۔ ہندو انتہاپسندوں نے ویڈیوز کو شیئر کرتے ہوئے دعوی کیا کہ اسلامی غنڈے اور جہادی اس کے ذمہ دار ہیں۔آلٹ نیوز کاکہنا ہے کہ علی گڑھ پولیس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس پورے واقعے کے پیچھے ہندو نوجوانوں کا ہاتھ ہے۔ ایک پریس کانفرنس میں ایس ایس پی نیرج جادون نے انکشاف کیا کہ چار ہندو نوجوانوں کو جن میں بلاک گڑھی کے رہنے والے جشانت کمار اور بھگواپور کے رہنے والے ابھیشیک، آکاش اور دلیپ کو اس کیس کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ راہل نامی شخص مفرور ہے۔پولیس نے مجرموں کو پکڑنے کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج اور کال ڈیٹیل ریکارڈز کو اسکین کیا توپتہ چلا کہ ایک اہم ملزم جشانت کی مستقیم نامی شخص کے ساتھ لڑائی تھی جبکہ راہل کی گل محمد سے لڑائی تھی۔ملزمان نے اپنے مخالفین کو پھنسانے کے لیے مندر کی دیواروں پر ایسی تصاویربنائیں۔ ایس ایس پی نے بتایاکہ اس سارے معاملے کے پیچھے ہندو نوجوان ہیں جنہوں نے اپنی ذاتی دشمنی کی وجہ سے یہ سب کیا۔پولیس کے مطابق شرپسندوں نے ذاتی جھگڑوں کا بدلہ لینے اور اپنے مسلمان حریفوں کو پھنسانے کے لیے مندر کی بے حرمتی کی۔





