بھارت کا جوہری سلامتی ، سیکورٹی کے حوالے سے ریکارڈ انتہائی تشویش ناک ہے، وزارت خارجہ

اسلام آباد:وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت کا جوہری سلامتی اور سیکیورٹی کے حوالے سے ریکارڈ انتہائی تشویش ناک ہے، گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران متعدد ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں حساس جوہری مواد اور دیگر تابکار اشیاءکی چوری اور غیر قانونی سمگلنگ سامنے آئی ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ بھارت میں جوہری مواد اور دیگر تابکار اشیاءکی چوری کے پے در پے واقعات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ وہ اپنے جوہری تنصیبات کو محفوظ رکھنے میں سنگین ناکامیوں کا شکار ہے۔
انہوںنے کہا کہ گزشتہ سال بھی بھارت کے بھابھا ایٹمی تحقیقی مرکز (بی اے آر سی) سے تابکار آلات اور انتہائی تابکار مادہ کیلی فورنیم جس کی مالیت 10 کروڑ امریکی ڈالر سے زائد تھی ، بھارت میں فروخت کے لیے دستیاب پایا گیا۔
ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ ایسے واقعات کی بار بار تکرار اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بھارت میں حساس اور دوہری استعمال والے مواد کے لیے ایک فعال غیر قانونی جوہری منڈی موجود ہے۔ بین الاقوامی برادری کو ان خطرناک خامیوں کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے کیونکہ یہ علاقائی اور عالمی سلامتی دونوں کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ اسکے برعکس پاکستان کا جوہری پروگرام ایک مضبوط کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچے کے تحت کام کرتا ہے، اس میں جامع ایکسپورٹ کنٹرولز نافذ ہیں، اور عالمی عدم پھیلاو¿ نظام کی مکمل پاسداری کا بے داغ ریکارڈ رکھتا ہے۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان نے جوہری تجربات مئی 1998 میں کیے گئے تھے، جوہری تجربات کے حوالے سے پاکستان کا مو¿قف واضح، اصولی اور مستقل ہے۔ پاکستان اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ان قراردادوں کی حمایت کرتا رہا ہے جو جوہری تجربات پر جامع پابندی کے مطالبے سے متعلق ہیں ، جبکہ ان قراردادوں پر بھارت کا غیر جانبدار رہنا اس کے مبہم اور مشکوک ارادوں کو ظاہر کرتا ہے ۔
ترجمان وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ بھارت کی طرف سے ”خفیہ یا غیر قانونی جوہری سرگرمیوں“ کے الزامات بے بنیاد، بدنیتی پر مبنی ہیں اور اسکی اس گمراہ کن مہم کا حصہ ہیں جس کا مقصد اپنے غیر ذمہ دارانہ رویے سے توجہ ہٹانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت واضح طور پر حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو غلط انداز میں بیان کر رہا ہے۔





