مقبوضہ جموں وکشمیر میں تلاشی کی کارروائیوں ، گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ جاری
گزشتہ 4روز کے دوران15سوسے زائد افراد گرفتار، بیسیوں کالے قوانین کے تحت جیل منتقل
سری نگر : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فورسز اہلکاروںکی طرف سے سرینگر، کولگام، شوپیاں، اسلام آباد، بارہمولہ اور گاندربل اضلاع میں محاصرے اور تلاشی کی پرتشدد کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوںکا سلسلہ جاری ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوجیوں ، پیرا ملٹری اور پولیس اہلکاروں نے مذکورہ اضلاع میں حریت کارکنوں اور جماعت اسلامی کے ارکان کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا ۔صرف کولگام ضلع میں آج 200 سے زائد مقامات پر چھاپے مارے گئے۔ بھارتی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ چار دنوں میں ضلع کے مختلف علاقوں میں 400 سے زائد تلاشی کارروائیاں کی گئی ہیں۔ بھارتی فورسز نے ضلع شوپیاں کے علاقے نادی گام میں جماعت اسلامی کے غیر قانونی طور پر نظر بند امیر ڈاکٹر حمید فیاض ، چتر گام میں تحریک حریت کے رہنما محمد یوسف فلاحی کے گھروں اور جماعت اسلامی اور تحریک حریت کے دیگر رہنماﺅں اور کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے ۔ضلع اسلام آباد میںجماعت اسلامی اور کئی آزادی پسند تنظیموں سے منسلک تقریباً 500 افراد سے پوچھ گچھ کی گئی، جن میں سے کئی کو بعد میں گرفتار کر کے ڈسٹرکٹ جیل مٹن منتقل کر دیا گیا۔پولیس کے اسپیشل آپریشنز گروپ نے سرینگر کے متعدد مقامات پر چھاپے مارے، حکام نے تصدیق کی ہے کہ شہر میں 150 سے زائد مقامات پر تلاشی لی گئی۔ضلع گاندر بل میں بھی جماعت اسلامی اور کئی آزادی پسند تنظیموں سے وابستہ افراد کو نشانہ بنایا گیا اور کئی لوگوں کو پوچھ گچھ کیلئے حراست میں لیا گیا۔
اسی طرح کی کارروائیاں ضلع بارہمولہ کے سوپور، زینگیر، رفیع آباد اور دیگر علاقوں میں کی گئیں، اطلاعات کے مطابق ان علاقوں میں 25سے زائد مقامات پر چھاپے مارے گئے۔
بھارتی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ چار روز کے دوران1500 سے زائد نوجوانوں کو پوچھ گچھ کیلئے حراست میں لیا گیا جن میں سے بہت سوں کو کالے قوانین کے تحت جیلوں میں منتقل کیا گیا۔بھارتی فورسز نے چھاپوں کے دوران جائیدادوں کی ضروری دستاویزات، لیپ ٹاپ، موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل آلات کیساتھ ساتھ دینی وتاریخی کتب ضبط کی گئیں۔





