بھارت

بھارت: مغربی بنگال میں لاءکالج کی مسلمان وائس پرنسپل سے جبری استعفیٰ لیاگیا

اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشدکے طلباءنے گنگا کاپانی چھڑک کر کمرے کوپاک کیا

نئی دہلی :بی جے پی کے زیر اقتداربھارتی ریاست مغربی بنگال میں سریندر ناتھ لا ءکالج کی وائس پرنسپل ڈاکٹر محمدی ترنم کواحتجاج کے ذریعے دباﺅ ڈال کر استعفٰے دینے پر مجبور کیاگیاجس کے بعدہندو انتہاپسند تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد سے وابستہ طلبہ نے ان کے کمرے میں گنگا کا پانی چھڑکا اور اگربتیاں جلائیں۔
طلبہ نے اس اقدام کو کمرے کو ”پاک کرنے“ اور سابق ترنمول کانگریس حکومت کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کی کوشش قرار دیا۔ڈاکٹر ترنم کاکہنا ہے کہ گھیراو کے دوران انہیں ان کے کمرے میں محصور کیا گیا، بجلی کے بلب اور پنکھے بند کر دیے گئے اور انہیں پانی اور کھانا بھی نہیں دیا گیا۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا اورسازش کا شکاربنایاگیا۔اپنے استعفے کے خط میں انہوں نے گھریلو معاملات، صحت سے متعلق اور ذاتی مسائل کو وجہ قرار دیا، تاہم کہا کہ انہوں نے طلبہ کے دباو کے تحت استعفیٰ دیا۔انہوں نے کیمپس سے پولیس کی حفاظت میں نکلتے ہوئے احتجاج کرنے والے طلبہ کے نعروں کے درمیان بار بار کہا کہ میں نے استعفیٰ نہیں دیا، میں نے استعفیٰ نہیں دیا۔

احتجاج کا آغاز سمسٹر امتحانات کے لیے حاضری کے معیار سے متعلق ایک تنازعے پر ہوا تھا۔ اے بی وی پی نے ان کے استعفے کوطلبہ کے حقوق کی فتح قرار دیا اور انہیںٹی ایم سی کی کٹھ پتلی قرار دیا۔بی جے پی کے رکن اسمبلی کوستاو باگچی نے ان کی برطرفی کا خیرمقدم کیا۔انسانی حقوق کے مبصرین کاکہنا ہے کہ ایک مسلمان ماہرِ تعلیم کے دفتر کو ’پاک‘ کرنے کے نام پر مذہبی رسومات کے استعمال سے بھارتی تعلیمی اداروں میں مذہبی بنیادوں پر نشانہ بنائے جانے کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button