نئی دلی دھماکے نے بہار اسمبلی کے انتخابی نتائج کو یکسر بدل دیا
این ڈی اے نے عوام کو گمراہ کر کے انتخاب میں حزب اختلاف کو شکست دی

اسلام آباد : بھارتی دارلحکومت نئی دلی میں لال قلعے کے قریب حالیہ دھماکہ نے بہار میں انتخابی منظر نامہ کویکسر بدل ڈالا اور عوام کی توجہ مقامی مسائل سے ہٹا کر قومی سلامتی کی طرف منتقل کردی ۔ اس تبدیلی کا فائدہ مودی حکومت کے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کو ہوا جس نے دھماکے کے بعد خود کو بحرانی صورتحال میں محفوظ ہاتھ کے طورپر پیش کیا ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق این ڈی اے نے لال قلعے دھماکے کو اپنے سیاسی مفاد کے لئے استعمال کیاجبکہ حزب اختلاف کی ملک میں بدعنوانی ، بے روزگاری اور انتخابی دھاندلی کی مہم ثانوی حیثیت اختیار کر گئیں۔ این ڈی اے نے نئی دلی دھماکے کے بعد کامیابی سے انتخابی مہم کوقومی سکیورٹی کی جانب منتقل کردیااوربہار میں بیرونی خطرات کے بیانیے پر سیاست کی اور لوگوں میں غیرملکی "دہشت گردی سے متعلق” خوف پیدا کیا ۔جبکہ حزب اختلاف کی طرف سے دھماکے پر سیاست ، ووٹرز فہرست کی نظرثانی پر اظہارتشویش اورسکیورٹی اداروں کی ناکامیوں پر سوالات اٹھانے کی کوششیں الٹا نقصان دہ ثابت ہوئیں۔ مودی کی زیر قیادت این ڈی اے اتحاد اپنی ہی سکیورٹی ناکامی سے پیدا ہونے والی بحرانی صورتحال میں خود کو نجات دہندہ کے طور پر پیش کر عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے میں کامیاب رہا ۔دھماکے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والے ووٹروں کی اکثریت نے قومی سلامتی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے این ڈی اے کے حق میں ووٹ دیا ۔ دھماکے کے بعد اس خاموش تبدیلی نے انتخابی نتائج میں فیصلہ کن کردار ادا کیا اور این ڈی اے ایک بار پھر فرقہ وارانہ نفرت اور تقسیم پیدا کرنے کی اپنی پالیسی کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کامیاب رہی ۔






