پاکستان کیساتھ جنگ میں بھارت کو واضح شکست ہوئی، فرانسیسی کمانڈر کی تصدیق
لڑائی میں رافیل طیارے مار گرائے گئے تھے، کیپٹن یوک لونے

پیرس :فرانس کی بحریہ کے ایک سینئر کمانڈر نے تصدیق کی ہے کہ رواں برس مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی لڑائی کے دوران بھارتی رافیل طیارے مار گرائے گئے تھے۔کمانڈر کا کہنا ہے کہ اس ناکامی کی وجہ چینی جے-10 سی کی تکنیکی برتری نہیں بلکہ پاکستان کی بہتر جنگی حکمتِ عملی اور صورت حال کو سنبھالنے کی استعداد تھی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطا بق لندویزیو (Landivisiau) میں قائم فرانسیسی بحری فضائی اڈے کے کمانڈر کیپٹن یوک لونے نے انڈو پیسیفک کانفرنس کے دوران وفود کو بتایا کہ 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب جب دونوں ممالک کے درمیان فضائی کشیدگی عروج پر تھی، اس وقت پاکستان اس پیچیدہ فضائی لڑائی کو اپنے حریف سے کہیں بہتر انداز میں سنبھالنے میں کامیاب رہا۔کیپٹن لونے نے کہاکہ اس رات فضا میں 140 سے زائد جنگی طیارے موجود تھے، جس کے باعث دونوں جانب سے نشانہ بنانا نسبتاً آسان ہو گیا تھا۔انہوں نے بریفنگ کے دوران کہا کہ ”یہ انتہائی پیچیدہ صورت حال تھی، لیکن پاکستان نے زیادہ منظم انداز میں ردعمل دیا۔”
کیپٹن یوک لونے یہ گفتگو 32 ملکوں کے 55 مندوبین کے سامنے کی، جو قومی دفاع کے اعلیٰ مطالعاتی ادارے (IHEDN) اور فرانسیسی وزارتِ خارجہ کے زیرِ اہتمام کانفرنس میں شریک تھے۔رافیل کے ریڈار کی متنازع کارکردگی سے متعلق سوال پر کیپٹن لونے نے واضح کیا کہ مسئلہ تکنیکی نہیں بلکہ عملی تھا۔ ”رافیل میں کوئی خرابی نہیں تھی، مسئلہ صرف یہ تھا کہ طیارے کو درست طور پر استعمال نہیں کیا گیا۔
کیپٹن لونے نے یہ انکشاف بھی کیا کہ بھارت اب رافیل کے بحری ورژن کی خریداری میں دلچسپی رکھتا ہے، جو ایئرکرافٹ کیریئر پر اترنے کے قابل ہے اور جوہری میزائل لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
کیپٹن لونے 25 برس سے رافیل اڑا رہے ہیں اور ایک ایسے بحری اڈے کی کمان کرتے ہیں جہاں 40 سے زائد جوہری ہتھیاروں سے لیس رافیل، 94 جنگی بحری جہاز، 10 جوہری آبدوزیں اور 190 سے زائد طیارے تعینات ہیں
دنیا بھر کی مسلح افواج نے مئی کی پاک بھارت فضائی جھڑپ کا تفصیلی مطالعہ کیا ہے تاکہ مستقبل کی جنگی حکمتِ عملی کے لیے اس سے نتائج اخذ کیے جا سکیں، کیونکہ یہ موجودہ دور میں لڑاکا طیاروں اور ایئر ٹو ایئر میزائلوں کی حقیقی جنگی کارکردگی جانچنے کا نادر موقع تھا۔







