بھارت میں خاص طبقے کی بالادستی اور دوسرے طبقوں کو بے بس کرنے کے لئے منظم کوششیں کی جا رہی ہیں: مولانا مدنی

نئی دہلی: جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا ہے کہ بھارت کی موجودہ صورت حال انتہائی حساس اور تشویشناک ہے جہاں ایک خاص طبقے کی بالادستی اور دوسرے طبقوں کو قانونی طور پر بے بس، سماجی طور پر علیحدہ اور معاشی طور پر محروم کرنے کے لیے معاشی بائیکاٹ، بلڈوزر ایکشن، ماب لنچنگ، مسلم اوقاف کی سبوتاژی، دینی مدارس اور اسلامی شعائر کے خلاف منفی مہم کی باقاعدہ اور منظم کوششیں کی جا رہی ہیں۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مولانا محمود اسعد مدنی نے بھوپال میں جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کی صدارت کرتے ہوئے تبدیلی مذہب کے قانون کوآڑے ہاتھوں لیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کے آئین نے ہمیں اپنے مذہب پر چلنے اور اس کی تبلیغ کی اجازت دی ہے۔ لیکن اس قانون میں ترمیم کے ذریعے اس بنیادی حق کو ختم کیا جارہا ہے۔ اس قانون کو اس طرح استعمال کیا جا رہا ہے کہ مذہب کی تبلیغ کا عمل جرم اور سزا کا سبب بن جائے۔ دوسری طرف گھر واپسی کے نام پر ہندو دھرم میں شامل کرنے والوں کو کھلی چھوٹ حاصل ہے۔ ان پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جاتا، نہ ہی کوئی قانونی کارروائی ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سماج کو ایک خاص مذہبی سمت کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔انہوںنے لو جہاد جیسے من گھڑت فتنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام دشمن عناصر نے جہاد جیسی مقدس دینی اصطلاح کو گالی اور تشدد کا ہم معنی بنا دیا ہے اور لو جہاد، لینڈ جہاد، تعلیم جہاد، تھوک جہاد جیسے جملوں کے ذریعے مسلمانوں کو بدنام اور ان کے مذہب کی توہین کی جارہی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ حکومت اور میڈیا بھی ایسے الفاظ کے استعمال سے گریز نہیں کرتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام میں جہاد ایک مقدس فریضہ ہے جس کا مقصد ظلم کا خاتمہ، انسانیت کی حفاظت اور امن کا قیام ہے اور قتال کی صورت بھی ظلم و فساد روکنے کے لیے ہی مشروط ہے۔ مگر یہ بات ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیے کہ جہاد کوئی انفرادی یا نجی اقدام نہیں، بلکہ صرف ایک با اختیار اور منظم ریاست ہی شرعی اصولوں کے مطابق اس کا فیصلہ کرسکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارت ایک سیکولر ملک ہے جہاں اسلامی ریاست کا تصور موجود نہیں، اس لیے یہاں جہاد کے نام پر کوئی بحث ہی نہیں۔ مسلمان آئینی طور پر پابند ہیں اور حکومت شہری حقوق کے تحفظ کی ذمہ دار ہے۔ مولانا مدنی نے واضح کیا کہ اسلام کے نزدیک جہادِ اکبر انسان کے اندر کی برائی، حرص، لالچ، غصے اور نفس کی بغاوت سے لڑنے کا نام ہے، جو ہر زمانے میں سب سے بڑی جدوجہد ہے۔






