عالمی برادری مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھارت کے خلاف کارروائی کرے

اسلام آباد: کشمیری رہنمائوں محمود احمد ساغر اور الطاف حسین وانی نے اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے بھارت کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق جموں وکشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے قائم مقام صدر محمود احمد ساغر نے اسلام آباد میں انسانی حقوق کے دن کے موقع پر جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں وکشمیر میںقتل و غارت، من مانی گرفتاریاں، محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں اور انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیاں جاری رکھتے ہوئے 1948میں آج کے دن منظور کیے گئے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کو مسلسل پامال کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر اب بھی دنیا کے سب سے زیادہ مصیبت زدہ خطوں میں سے ایک ہے جہاں لوگوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے اور انہیں بھارتی فورسز کی طرف سے ادارہ جاتی جبر کا سامنا ہے۔محمودساغر نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنی اخلاقی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے بھارت پر دبائو ڈالیں کہ وہ اپنی بربریت کو روکے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کا احترام کرے اور کشمیری عوام کو عالمی ادارے کی زیر نگرانی ریفرنڈم کے ذریعے اپنے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کا استعمال کرنے کی اجازت دے۔

دریں اثناء کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے چیئرمین الطاف حسین وانی نے کہاہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارت کی طرف سے بنیادی سیاسی اور انسانی حقوق کی منظم پامالیاں انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے اور متعدد بین الاقوامی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں جن پر اس نے دستخط کررکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں ناکامی اور جابرانہ پالیسیاں بھارت کے محاسبے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ الطاف وانی نے کہا کہ بھارتی فورسز سات دہائیوں سے زیادہ عرصے سے قتل و غارت، عصمت دری، جبری گمشدگیوں اور اظہار رائے، اجتماع اور پرامن احتجاج کو کچلنے کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت جارحانہ انداز میں اسرائیلی ماڈل پر عمل پیرا ہے تاکہ ڈیموگرافک انجینئرنگ کے ذریعے مسلم اکثریتی خطے کو اقلیتی خطے میں تبدیل کیا جا سکے۔انہوں نے بین الاقوامی قانون کے تقدس کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں پر زور دیا کہ وہ مظالم کو روکنے، متاثرین کے لیے انصاف کو یقینی بنانے اور بھارت کو اس کی مسلسل خلاف ورزیوںپرجوابدہ بنانے کے لیے بلا تاخیر کارروائی کریں۔








