بھارتی سپریم کورٹ نے عمر خالد، شرجیل امام اور دیگر کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا

نئی دہلی:
بھارتی سپریم کورٹ نے 2020کے نئی دلی فسادات کی سازش کے مقدمے میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس لیڈر عمر خالد ،شرجیل امام ، گلفشہ فاطمہ اوردیگرکی ضمانت کی درخواستوں پر اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجریا پر مشتمل سپریم کورٹ کے بنچ نے 2ستمبر کودلی ہائی کورٹ کے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یو اے پی اے کے تحت قید سٹوڈنٹس لیڈرز کی ضمانت خارج کرنے کے حکم کے خلاف درخواست کی سماعت مکمل کرنے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کیاتھا۔ ملزمان گزشتہ پانچ سال سے زائد عرصے سے قید ہیں ۔ دونوں فریقوں کودلائل سننے کے بعد بنچ نے اپنا فیصلہ محفوظ کیا اور درخواست گزاروں اور استغاثہ کو 18دسمبر تک اضافی دستاویزات دائر کرنے کی بھی ہدایت دی ۔2 ستمبر کو دلی ہائی کورٹ نے 2020کے دلی فسادات میں سازش کے مقدمے میں شرجیل امام، عمر خالد اوردیگر ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں کو خارج کر دیا تھا۔ملزمان نے دلی ہائی کورٹ کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔متنازعہ قانون شہریت کے خلاف فروری2020میں نئی دلی کے شمال مشرقی علاقوں میں ہونے والے پر تشدد فسادات کے 40مسلمانوں سمیت 54افراد ہلاک ہو گئے تھے ۔







