پاکستان

دریائے چناب کے بہائو میں اچانک تبدیلی پر پاکستان کا اظہارِ تشویش، بھارت سے وضاحت طلب

بہار کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کا حجاب کھینچنے کی شدید مذمت

اسلام آباد:
پاکستان نے دریائے چناب کے بہائو میں تبدیلی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے پر وضاحت کیلئے بھارت کو خط لکھ دیا گیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں دریائے چناب کے بہائو میں اچانک تبدیلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ گزشتہ ایک ہفتے سے خبروں میں ہے۔رواں ہفتے متعدد میڈیا اداروں نے رپورٹ کیا ہے کہ بھارت نے دریائے چناب میں اچانک پانی چھوڑا ہے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان ان تبدیلیوں کو انتہائی تشویش اور سنجیدگی سے دیکھتا ہے، یہ بھارت کی جانب سے بغیر پیشگی اطلاع دریائے چناب میں یکطرفہ طور پر پانی چھوڑنے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ہمارے انڈس واٹر کمشنر نے سندھ طاس معاہدے میں درج طریقہ کار کے مطابق بھارتی ہم منصب کو خط لکھ کر وضاحت طلب کی ہے۔طاہراندرابی نے کہا کہ بھارت کی جانب سے دریا چناب کے بہائو میں کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ، خاص طور پر زرعی سائیکل کے ایک نازک مرحلے پر، براہِ راست ہمارے شہریوں کی زندگی، روزگار، غذائی تحفظ اور معاشی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم بھارت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پاکستانی انڈس واٹر کمشنر کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دے، دریا کے بہائو میں کسی بھی یکطرفہ مداخلت سے باز رہے اور سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو لفظی اور عملی طور پر پورا کرے۔ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک پابند بین الاقوامی معاہدہ ہے جو خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کا ذریعہ رہا ہے۔طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ معاہدے کی خلاف ورزی بین الاقوامی معاہدوں کے تقدس اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے لیے خطرہ ہے اور اس سے علاقائی امن، پرامن ہمسائیگی کے اصولوں اور ریاستوں کے درمیان تعلقات کے ضوابط کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو بھارت کی جانب سے ایک دوطرفہ معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کا نوٹس لینا چاہیے اور بھارت کو ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے، بین الاقوامی قانون، تسلیم شدہ اصولوں اور اپنی ذمہ داریوں کے مطابق عمل کرنے کا مشورہ دینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تنازعات اور مسائل کے پرامن حل کے لیے پرعزم ہے، تاہم ہم اپنے آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد سندھ طاس معاہدے کویکطرفہ طورپر معطل کردیا تھا۔ ترجمان نے بہار کے وزیرِ اعلی نتیش کمار کی جانب سے ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کا حجاب اتارنے کے واقعے کی شدید مذمت کی ۔انہوں نے کہاکہ اس واقعے کے بعد اتر پردیش کے ایک وزیر کی جانب سے اس اقدام کا سر عام مذاق بھی اڑایا گیا۔ مذکورہ وزیر نے پہلے نتیش کمار کا دفاع کیا تھا، تاہم بعد میں اپنے بیان سے پیچھے ہٹ گئے۔انہوں نے کہا کہ ایک سینئر سیاسی رہنما کی جانب سے مسلمان خاتون کا زبردستی حجاب اتارنا اور اس کے بعد اس عمل کا سرِ عام تمسخر اڑانا نہایت تشویشناک ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ اقدام بھارت میں مسلمان خواتین کی تذلیل کو معمول بنانے کا خطرہ رکھتا ہے اور یہ رویہ بھارت کی مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلمان شہریوں، کے لیے عوامی سطح پر تضحیک کو ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسا طرزِ عمل ہندوتوا سے متاثر سیاست سے جڑے ایک وسیع اور تشویشناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جس میں مذہبی عدم برداشت اور اسلاموفوبیا میں خطرناک حد تک اضافہ شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم تمام ذمہ دار فریقین اور بھارتی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس واقعے کی سنگینی کو تسلیم کریں اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ، مذہبی آزادی کے احترام اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کریں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button