نئی دلی:
بھارت مسلسل تیسرے سال عالمی کھیلوں میں ڈوپنگ (ممنوعہ ادویات کے استعمال )کے معاملات میں سر فہرست رہا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی نے اپنی سالانہ رپورٹ میں بتایاہے کہ بھارت کی نیشنل اینٹی ڈوپنگ ایجنسی نے 2024 میں 7ہزار113پیشاب اور خون کے نمونے جمع کیے، جن میں سے 260مثبت پائے گئے۔یہ نتائج بھارت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہیں، جو 2030کے کامن ویلتھ گیمز کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے۔ اس ایونٹ کوبھارت کے 2036کے اولمپکس کی میزبانی کے خواب کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔بین الاقوامی واچ ڈاگ کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال سب سے زیادہ ڈوپنگ کے کیسز ایتھلیٹکس کھلاڑیوںمیں 76، ویٹ لفٹرز میں 43اور ریسلرزمیں 29تھے۔جولائی میں، انڈر23ریسلنگ چیمپئن اور پیرس اولمپکس کے کوارٹر فائنل کھلاڑی ریتیکا ہودا مثبت پائی گئیں اور عارضی طور پر معطل کر دی گئیں۔رواں ماہ کے آغاز میں بھارت کے یونیورسٹی گیمز میں کچھ ٹریک اینڈ فیلڈ ایونٹس میں صرف ایک کھلاڑی نے شرکت کی، جبکہ باقی کھلاڑی اینٹی ڈوپنگ اہلکاروں کی موجودگی کے خوف سے فرارہوگئے۔دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے ملک بھارت کو 2022اور 2023میں بھی ڈوپنگ کے معاملات میں سب سے اوپر درجہ دیا گیا تھا۔فرانسیسی کھلاڑی 2024 میں اگلے سب سے زیادہ مثبت کیسزیعنی 91کے حامل تھے، جبکہ اٹلی 85کیسز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا، روس اور امریکا کے 76 کیسز تھے، اس کے بعد جرمنی کے 54 اور چین کے 43 کیسز سامنے آئے تھے۔بھارت کی نیشنل اینٹی ڈوپنگ ایجنسی نے رپورٹ کے بعد اپنی ڈوپنگ کے خلاف جدوجہد کا دفاع کیا ہے۔نیشنل اینٹی ڈوپنگ ایجنسی نے مزید بتایا کہ 16 دسمبر تک اس سال 7,068 ٹیسٹ کیے گئے جن میں 110 مثبت کیسز تھے۔حالیہ ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی رپورٹ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی جانب سے بھارت میں کارکردگی بڑھانے والی دوائوں کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تشویش کے اظہار کے بعد سامنے آئی ہے جس میں بھارت سے اپنے ادارے درست کرنے کا کہا گیا تھا۔






