مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ جموں وکشمیر: بھارتی یوم جمہوریہ سے قبل پابندیاں مزید سخت، کشمیریوں کی مشکلات میں اضافہ

سرینگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں نئی دلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت انتظامیہ نے بھارتی یوم جمہوریہ سے قبل حفاظتی انتظامات کے نام پر پابندیاں مزید سخت کردی ہیں جس سے پہلے سے بھارتی ریاستی دہشت گردی کا شکار کشمیریوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
بھارت ہر برس 26جنوری کو اپنا ”یوم جمہوریہ“ مناتا ہے تاہم دنیا کا سب سے بڑجمہوری ملک ہونے کادعویدار یہ ملک کشمیریوں کا پیدائشی حق، حق خود ارادیت گزشتہ 78برس سے فوجی طاقت کے بل پر دبائے بیٹھا ہے اور بھارتی فورسز آزادی کے مطالبے کی پاداش میں کشمیریوں پر وحشیانہ مظالم ڈھا رہی ہیں۔ انظامیہ نے بھارتی یو م جمہوریہ کی نام نہاد تقاریب کے پر امن انعقادکو یقینی بنانے کیلئے محاصروں اور تلاشی کی کارروائیوں اور پابندیوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔سری نگر اور مقبوضہ وادی کشمیر کے دیگر تمام بڑے شہروں اور قصبوں میں بڑی تعداد میں بھارتی فوجی، پیراملٹری اور پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں ۔ سرینگر جموں شاہرہ کے علاوہ تمام اہم شاہراہوں اور سڑکوں پر بھی سخت حفاظی اقدامات کیے گئے ہیں ۔حساس مقامات پر بھارتی اہلکار مسلسل گشت کر رہے ہیں ۔ لوگوں کی نقل و حرکت پر نگاہ رکھنے کیلئے سی سی ٹی وی اور ڈرون کیمروں کا استعمال کیا جا رہاہے ۔بھارتی فورسز نے حساس مقامات پر ناکے لگائے ہیں اور چوکیاں قائم کر رکھی ہیں جہاں گاڑیوں ، مسافروں اور راہگیروں کی سخت تلاشی لی جا رہی ہے ۔سخت حفاظی اقدامات کی وجہ سے لوگوں مشکلات و مصائب میں اضافہ ہوا ہے ۔ سرینگر کے بخشی سٹیڈیم کو ،جہاں یوم جمہوری کی نام نہاد مرکزی تقریب ہوگی ، بھارتی فورسز نے مکمل طور پر اپنے حصار میں لے رکھا ہے۔
مقبوضہ وادی کشمیر کے علاوہ جموں خطے میں بھی سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ضلع کشتوار کے سون نار اور چھترو علاقوں میں آج مسلسل پانچویں دن تلاشی کی کارروائی جاری ہے ۔سامبا، کٹھوعہ، ادھم پور اور ریاسی اضلاع میں بھی تلاشی کی کارروائیاں کی جا رہی ہیں ۔ضلع جموں میں بھی سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔فورسز نے جموں شہر کے مضافات میں واقع علاقوں بھٹنڈی اور راجیو نگر میں بھی گزشتہ روز بڑے پیمانے پر تلاشی کی کارروائی عمل میں لائی۔ یاد رہے کہ کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری بھارت کے یوم جمہوریہ کو” یوم سیاہ“ کے طور پر مناتے ہیں جسکا مقصد عالمی برادری کو یہ واضح پیغام دیناہوتا ہے کہ بھارت جموں وکشمیر پر غیر قانونی طور پر قابض ہے اور کشمیری اسکے تسلط سے آزادی تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button