جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ بھارت کا جموں وکشمیر پر غیر قانونی قبضہ ہے، پاکستان
اقوام متحدہ:اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر پربھارت کاغیرقانونی قبضہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق عاصم افتخار نے سلامتی کونسل میں امن انصاف اور کثیر الجہتی نظام سے متعلق مباحثے میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال مئی کے تنازعہ نے اس حقیقت کوواضح کردیا۔کشمیریوں کوحق خودارادیت سے محروم رکھنے سے امن کوشدید خطرات لاحق ہیں،جوکہ انسانی حقوق کی سنگین خلا ف ورزی بھی ہے ۔بھارتی اقدامات خطے میں بڑھتے ہوئے مسائل کی اہم وجہ ہے۔ بھارت کشمیریوں پر مظالم ڈھا کر خطے میں امن و استحکام کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔عاصم افتخار نے کہا کہ قانون کی حکمرانی امن و انصاف اور اجتماعی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے، آج بین الاقوامی قانون کے احترام کو کڑی آزمائش کا سامنا ہے۔ یکطرفہ اقدامات نے ریاستوں کے عالمی قوانین کو مجروح کیا۔انہوں نے کہا کہ جب قانون طاقت یا مصلحت کے آگے جھکے گا تو عدم استحکام گہرا ہوگا، اسی وجہ سے تنازعات مزید جڑ پکڑ تے ہیں اور اس سے پر من بقائے باہمی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ یکطرفہ اقدامات کو معمول بنانے کی کوششیں اجتماعی سلامتی کو کمزور کرتی ہیں، پاکستان نے خود بھی ایسی خلاف ورزیوں کا سامنا کیا ہے۔عاصم افتخار نے یاد دلایا کہ بھارت نے گزشتہ سال پاکستانی خودمختاری کی خلاف ورزی کرکے جارحیت کا ارتکاب کیا، تاہم پاکستان نے حق دفاع کو ذمہ دارانہ محتاط اور متناسب انداز میں استعمال کیا اور اس دوران پاکستانی ردعمل نے واضح کردیا کہ جبر کسی طور پر قبول نہیں، ریاستوں کے مابین واحد معیار بین الاقوامی قانون کا احترام ہے۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کی معطلی عالمی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام لاکھوں افراد کی زندگیوں اور روزگار کو خطرے میں ڈالتا ہے، پاکستان پانی اور دیگر قدرتی وسائل کو ہتھیار بنانے کے عمل کو مسترد کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ معاہدوں کی پاسداری بین الاقوامی قانونی نظام کی بنیاد ہے، عالمی قانون کا مساوی اطلاق ہونا چاہیے، طاقت کی بالادستی سے عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔






