تعلیم میں سماجی انصاف کے مطالبے پر ایس ایف آئی کے مارچ پر دہلی پولیس کا تشدد
تعلیمی اصلاحات کے بجائے جبر کا راستہ اختیار کیا گیا، طلبہ تنظیم

نئی دہلی:بھارت میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سماجی انصاف اور ذات پات پر مبنی امتیاز کے خاتمے کے مطالبے پر اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) کے احتجاجی مارچ کو دہلی پولیس نے طاقت کے استعمال سے روک دیا جس پر طلباء تنظیم نے بی جے پی حکومت پر جبر اور آمرانہ طرزِ عمل اختیار کرنے کا الزام عائد کیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ مارچ بھارتی وزارتِ تعلیم پر دبا ئوڈالنے کے لیے کیا گیا تاکہ وہ یو جی سی کے پروموشن آف ایکویٹی اِن ہائر ایجوکیشن انسٹی ٹیوشنز ریگولیشنز 2026 پر عمل درآمد کرائے، یونیورسٹیوں میں پھیلے ہوئے ذات پات پر مبنی امتیاز کے خلاف ٹھوس اقدامات کرے اور ادارہ جاتی جوابدہی یقینی بنانے کے لیے روہتھ ایکٹ نافذ کرے۔اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا نے یہ احتجاج یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی حالیہ رپورٹ کے پس منظر میں کیا ، جس میں بھارت کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ذات پات پر مبنی امتیاز میں تشویشناک اضافے کا اعتراف کیا گیا ہے۔
ایس ایف آئی نے وزارتِ تعلیم کی جانب پرامن مارچ پر دہلی پولیس کے ”بہیمانہ اور بلاجواز تشدد”کی شدید مذمت کی۔ تنظیم کے مطابق پولیس نے 100 سے زائد طلبہ کو حراست میں لیا جن میں ایس ایف آئی کے صدر آدرش ایم ساجی، جوائنٹ سیکریٹری ایشے گھوش، مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین سوراج ایلامون سمیت دہلی اسٹیٹ کمیٹی کے متعدد ارکان شامل ہیں۔ تنظیم نے اس اقدام کو جمہوری آوازوں کو دبانے کی کوشش قرار دیا۔ تنظیم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ”منتخب طلباء نمائندوں اور پرامن مظاہرین کی گرفتاری ایک ایسی حکومت کی عکاس ہے جو مکالمے کے بجائے طاقت اور اصلاحات کے بجائے جبر کو ترجیح دیتی ہے۔”تنظیم نے کہا کہ دلت، آدیواسی، او بی سی، خواتین اور دیگر پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے طلباء کے خدشات، خصوصاً تحقیقی اسکالر روہتھ ویمولا کی موت کے بعد بارہا اٹھائے گئے ہیں، لیکن وزارتِ تعلیم مسلسل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ایس ایف آئی نے نشاندہی کی کہ متعدد سرکاری کمیٹیاں اور رپورٹس جامعات میں امتیاز، محرومی اور طلباء کی خودکشیوں کا اعتراف کر چکی ہیں، تاہم حکومت ذمہ داری سے مسلسل گریزاں ہے۔








