بھارت

بھارت میں اظہار رائے کی کوئی آزادی نہیں

اروندھتی رائے نے مودی حکومت کا آمرانہ طرز عمل بے نقاب کردیا

اسلام آباد : معروف بھارتی مصنفہ اور سماجی کارکن اروندھتی رائے نے مودی حکومت کے آمرانہ طرز عمل کو بے نقاب کر دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اروندھتی رائے 10 فروری 2026 کو پیرس میں ایمائل بوٹمی ایمفی تھیٹر میں اپنی کتاب ”رائے مون ریفیوج ایٹ مون اوریج“ یا ”مائی ریفیوج اینڈ مائی سٹارم“ کی تقریب رونمائی سے خطاب کررہی تھیں۔ تقریب کا مقصد ان کی نئی کتاب کے بارے میں ایک ادبی گفتگو کرنا تھا لیکن یہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیر قیادت بھارتی ریاست پر فرد جرم میں تبدیل ہو گئی۔اروندھتی رائے جو ایک معروف بھارتی مصنفہ ہیں ، شیلانگ میں پیدا ہوئیں اور انہوں نے کیرالہ میں پرورش پائی۔وہ بھارت میںانسانی حقوق کی پامالیوں، ذات پات کی تفریق، ماحولیاتی تباہی اور قبائلی اور غریب طبقوں کو درپیش مشکلات پر طویل عرصے سے لکھ اوربول رہی ہیں۔ ان کی بُکرر انعام یافتہ تصنیف” دی گاڈ آف سمال تھنگز“ میں سماجی ناانصافی کو بے نقاب کیاگیا ہے۔ اب وہ دلیل دیتی ہے کہ یہ ناانصافی منظم انداز میں اور ریاستی سطح پر ہورہی ہے۔انہوںنے بتایا کہ کس طرح بھارتی حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا کہ سرورق پران کی سگریٹ نوشی کی تصویر کی وجہ سے جسے وہ غیر اخلاقی قرار دیتے ہیں، ان کی کتاب پر پابندی لگائی جائے ۔ انہوں نے اپنے گرفتاردوستوں کے خلاف سینکڑوں جھوٹے مقدمات کا حوالہ دیا اور بھارت میں خوف و دہشت کے ماحول کو اجاگرکیا۔ ان کے مطابق اقلیتوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ہندو بالادستی اب بیان بازی نہیں بلکہ پالیسی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مودی کے بھار ت میں اختلاف رائے کو بغاوت اور تنقید کو جرم سمجھا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر احترام سے دیکھی جانے والی مصنفہ کو اپنی کتاب کا غیر ملکی ہالوں میں دفاع کرنا پڑتا ہے جبکہ ان کے اپنے ملک میں جمہوریت زوال پذیر ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button