کشمیری محمد مقبول بٹ اور افضل گورو کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کریں گے: محمد فاروق رحمانی

اسلام آباد:جموں و کشمیر پیپلز فریڈم لیگ کے چیئرمین اور کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے سابق کنوینر محمد فاروق رحمانی نے شہید محمد مقبول بٹ اور شہید محمد افضل گورو کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری عوام اپنے مادر وطن کی بھارتی تسلط سے آزادی کیلئے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھیں گے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق محمد فاروق رحمانی نے اسلام آباد میں جاری ایک بیان میں کہا کہ کشمیری عوام نے اپنی پر امن جدوجہدآزادی کیلئے جرات مندانہ کوششیں جاری رکھیں اور ہزاروں نوجوانوں نے بے مثال مشکلات کا سامنا کیا تاکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا جا سکے۔انہوںنے کہاکہ بھارت نے محمد مقبول بٹ کو غیر جانبدارانہ عدالتی انتقام کا نشانہ بناکر پھانسی پر چڑھاگیا جبکہ افضل گورو کو بھارتی عدالت نے عوام کے اجتماعی ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے بلا جواز طورپر پھانسی دی ۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیاکہ یہ انتہائی شرم اور دکھ کی بات ہے کہ شہید مقبول بٹ اور شہید افضل گورو کے جسدِ خاکی ان کے خاندانوں کے حوالے نہیں کیے گئے ۔فاروق رحمانی نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ دونوں شہدا کی باقیات ان کے خاندانوں کے حوالے کرنے کیلئے بھارتی حکومت پر دبائو بڑھائے ۔انہوںنے کہا کہ مقبول بٹ اور افضل گورو کو پھانسی دینے کے باوجود بھارت کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد کو دبانے میں ناکام رہا، جس کے نتیجے میں ہزاروں نوجوان جیلوں میں قید ہیں جبکہ بہت سے نوجوانوں کو جعلی مقابلوں اور دوران حراست شہید کیاجاچکا ہے۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیاکہ حل طلب دیرینہ تنازعہ کشمیر طویل عرصے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مواصلاتی نظام، موبائل، انٹرنیٹ اور مواصلاتی سروسز پرغیر قانونی پابندیاں مسلسل جاری ہیں ۔آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کیلئے بھارتی شہریوں کو لاکھوں جعلی ڈومیسائل سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے ہیں تاکہ جموںوکشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو اقلیت میں تبدیل کیا جاسکے ۔اسی طرح کشمیریوں کی جائیدادیں ضبط ، مسلم ملازمین کو ملازمتوں سے برطرف اور غیر کشمیریوں کو ریاستی انتظامیہ میں بھرتی کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں آزادی صحافت پر سخت قدغن اور سیاسی اور مذہبی جماعتوں پر پابندیاں عائد ہیں۔تاہم، انہوں نے کہا کہ سخت گیر پالیسیوں کے باوجود کشمیریوں کی آزادی کی آواز کو دبانے کی کوششیں ناکام رہی ہیں اور کشمیری عوام اپنے حقِ خودارادیت کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں اب بھی سنجیدہ حلقے مسئلہ کشمیر کو فوجی طاقت کی پالیسی کے بجائے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے حامی ہیں، کیونکہ مئی 2025کی کشیدگی نے جنگ کی ناکامی کو واضح کر دیا۔





