کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزادکشمیر شاخ کا قائد اعظم کے یومِ پیدائش پرانہیں شاندارخراجِ عقیدت

اسلام آباد: کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں وکشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی نے قائدِ اعظم محمد علی جناح کے یومِ پیدائش پرانہیں شاندار خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ برصغیر کے مسلمانوں کے محسن اور ایک عظیم مدبر رہنما تھے جنہوں نے غیر معمولی بصیرت، آئینی جدوجہد اور اصولی سیاست کے ذریعے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد اور خودمختار وطن کے خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق غلام محمد صفی نے ایک بیان میں کہا کہ قائدِ اعظم نے شبانہ روز انتھک محنت، سیاسی تدبر اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ برصغیر کے مسلمانوں کو غلامی، عدم تحفظ اور سیاسی بے وزنی سے نکال کر ایک باوقار اور خوددار قوم کی حیثیت دلائی۔ ان کی قیادت محض جذباتی نعروں پر نہیں بلکہ قانون، آئین اور سیاسی حکمت پر مبنی تھی۔انہوںنے کہا کہ قائدِ اعظم کی سیاست کی بنیاد اصول، انصاف اور آئینی بالادستی پر استوار تھی۔ وہ جمہوریت، مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کے حامی تھے۔ پاکستان کا قیام کسی عارضی یا وقتی فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل، منظم اور آئینی جدوجہد کا حاصل تھا جس کی قیادت قائدِ اعظم نے ثابت قدمی اور دانش مندی کے ساتھ کی۔ حریت رہنما نے کہا کہ قائدِ اعظم کا وژن صرف پاکستان کے قیام تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ برصغیر کے تمام مظلوم اور محکوم مسلمانوں کے حقوق کے لیے فکر مند تھے۔ اسی تناظر میں انہوں نے مسئلہ کشمیر کو برصغیر کی تقسیم کا ایک نامکمل اور حل طلب ایجنڈا قرار دیا۔ قائدِ اعظم کا واضح اور دوٹوک موقف تھا کہ ریاستِ جموں و کشمیر جغرافیائی، تہذیبی، معاشی اور عوامی امنگوں کے اعتبار سے پاکستان کے ساتھ فطری وابستگی رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ قائدِ اعظم کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے پرزور حامی تھے اور ان کا اصولی موقف یہ تھا کہ ریاستِ جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کسی جبر، طاقت یا قبضے کے ذریعے نہیں بلکہ کشمیری عوام کی آزادانہ رائے اور مرضی سے ہونا چاہیے۔ یہی اصول بعد ازاں عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا، تاہم بدقسمتی سے آج تک اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ غلام محمد صفی نے کہا کہ قائدِ اعظم کی کشمیر پالیسی انصاف، قانون اور اخلاقی اصولوں پر مبنی تھی جو آج بھی عالمی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر سے مکمل ہم آہنگ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل نہیں ہوتا، اس وقت تک برصغیر میں پائیدار اور دیرپا امن ممکن نہیں۔ آج کشمیری عوام جس جبر، فوجی تسلط اور سیاسی ناانصافی کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے حالات میں قائدِ اعظم کے افکار، وژن اور اصول کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کشمیری عوام قائدِ اعظم کے اس تاریخی موقف کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس کے بغیر خطے میں حقیقی امن کا تصور ادھورا ہے۔ انہونے کہا کہ قائدِ اعظم محمد علی جناح کایومِ پیدائش ہمیں اس عہد کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم ان کے افکار، اصولوں اور جدوجہد کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کے منصفانہ، پائیدار اور عوامی خواہشات کے مطابق حل کے لیے اپنی سیاسی اور اخلاقی جدوجہد پوری استقامت کے ساتھ جاری رکھیں۔





