اسٹالن کا تامل شناخت کا دفاع کرنے کا عزم، مودی حکومت کی تعلیمی پالیسی پر کڑی تنقید
چنئی:بھارتی ریاست تامل ناڈو کے وزیر اعلیٰ اورڈی ایم کے کے صدر ایم کے۔ اسٹالن نے تعلیم اور زبان کے حوالے سے، بی جے پی کی زیرقیادت بھارتی حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے تامل شناخت اور طلباءکے حقوق کے دفاع کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اسٹالن نے ساو¿تھ زون یوتھ ونگ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ تامل کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کی سخت مزاحمت کریں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ نئی دہلی کی زبان کی پالیسی بالخصوص تین زبانوں کے فارمولے کا مقصد تعلیمی اصلاحات کی آڑ میں ہندی کو مسلط کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر ہماری مادری زبان تمل کو خطرہ لاحق ہوا تو میں اس کی حفاظت کے لیے لڑوں گا۔ انہوں نے اعلان کیاہم کبھی بھی ہندی کو مسلط نہیں ہونے دیں گے۔مودی حکومت کی زبان کی پالیسی خاص طور پر قومی تعلیمی پالیسی کے تحت تین زبانوں کا فارمولہ بھارتی حکومت اور تامل ناڈوکی ریاستی حکومت کے درمیان ایک پراناتنازعہ رہا ہے۔ ریاستی حکومت نے اس پالیسی کی مسلسل مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد بالواسطہ طور پر ہندی کو مسلط کرناہے اوریہ علاقائی زبان اور ثقافتی خودمختاری کے لیے خطرہ ہے۔اسٹالن نے اہلیت و داخلے کے قومی ٹیسٹ (NEET) کے بارے میں بھی اپنی تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ یہ معاشی طور پر کمزور پس منظر سے آنے والے طلباءکے لیے نقصاندہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریزرویشن نے ان طلباءکے لیے مواقع فراہم کیے جو تعلیم اور نوکریوں سے محروم تھے۔ لیکن NEET امتحان ایسے مواقع کے دروازے بند کر دیتا ہے۔نوجوانوں سے فعال کردار ادا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے اسٹالن نے پارٹی کارکنوں اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ سماجی انصاف، لسانی فخر، اور ریاستی حقوق کے پیغام کو آگے بڑھائیں اور تامل زبان اور ثقافت کے تحفظ کے لیے مضبوطی سے کھڑے رہیں۔








