بھارت :ہریانہ میں ہندوتوا لیڈر کی مسلمان دکانداروں، کارکنوں کے بائیکاٹ کی اپیل

چندیگڑھ :بھارتی ریاست ہریانہ کے علاقے ہوڈل میں ہندو انتہاپسند تنظیم بھگوا گاو رکھشا سمیتی کے قومی سیکریٹری موہت چودھری نے مسلمانوں کے کاروباروں اور کارکنوں کے معاشی بائیکاٹ کی اپیل کی ہے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق موہت چودھری 3 مئی کو شہد فروش قطب الدین کی دکان پرگیا اوران کی مصنوعات کی پاکیزگی کے بارے میں ایک جھوٹی کہانی گھڑ کریہ پروپیگنڈہ شروع کیا کہ دکاندار شہد میں تھوک اور پیشاب ملاتا ہے۔ موہت نے لوگوں سے سوال کیاکہ جب وہ شہد کو فروخت کرنے سے پہلے اس میں ملاوٹ کرتاہے، تو کیا آپ اس پر بھروسہ کر سکتے ہیں؟انہوں نے تمام ہندوو¿ںپر زور دیا کہ وہ مسلمان ناموں والے افراد سے خریداری بند کریں۔چاہے نام قطب الدین ہو، سقم الدین ہویا خان ہو، ان کا مکمل بائیکاٹ کریں اوران سے کوئی بھی چیز نہ خریدیں۔ موہت چودھری نے مسلمانوں کو ملازمت پرنہ رکھنے کا بھی مشورہ دیا اور دعویٰ کیا کہ ان کا خوف وہشت اپنی انتہاکو پہنچ چکا ہے۔موہت چودھری نے مسلمان دکانداروں کودھمکی دی کہ ا گر میںنے تمہیں دوبارہ اس علاقے میںدیکھا تو میں تمہیں لہولہان کردوں گا۔







