بی جے پی کیلئے ہندو توا کے سوا کوئی نظریہ قابل قبول نہیں
بھارت میں طلبہ کے احتجاج کو سکیورٹی خطرہ اور سیاسی تصادم سمجھا جاتا ہے

نئی دلی:بھارت میں مودی کی ہندوتوا حکومت کے خلاف خاص طور پر تعلیمی اداروں میںہونے والے احتجاج ایک سنگین مسئلہ بن گیا ہے ۔ طلبہ کے احتجاج پر بی جے پی کے سخت ردعمل سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت کیلئے ہندو توا کے نظریے کے سوا کسی دوسرے نظریے کی گنجائش نہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں طلبہ اور بی جے پی نواز یونیورسٹی انتظامیہ کے درمیان بڑھتے ہوئے ٹکرائو سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت میں طلبہ کے احتجاج کو اب جمہوریت کی علامت کے بجائے سکیورٹی خطرہ اور سیاسی تصادم سمجھا جاتا ہے۔بھارت کی سیاست میں بی جے پی کا ایک ہی حتمی نظریہ غالب ہے اور وہ ہے ہندو توا، جس کے سائے میں کوئی بھی متبادل آواز یا مخالف نظریہ برداشت نہیں کیا جاتا۔ یہ نظریہ، آر ایس ایس کی بنیاد پر قائم ہے،جس کے تحت اختلاف رائے کو خطرہ سمجھاجاتاہے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں طلبہ کا بڑھتا ہوا احتجاج اور انتظامیہ کے ساتھ کشیدگی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ بھارتی حکومتی حلقوں کے لیے یونیورسٹیاں اب جمہوریت کی علامت نہیں بلکہ سیاسی تصادم اور سکیورٹی کے محاذ بن چکی ہیں۔گزشتہ سال اکتوبرمیں جے این یو کے طلبہ نے فیسوں میں اضافے اور انتظامی زیادتیوں کے خلاف احتجاج کیا۔ اس دوران طلبہ اور دلی پولیس کے درمیان جھڑپو ں کے نتیجے میں چھ طلبہ لیڈروں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے اور 28طلبہ کو فسادات کے الزامات میں گرفتار کیاگیا ۔یونیورسٹی میں حالیہ احتجاج کے دوران طلبہ نے مودی اور امیت شاہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی ۔ بی جے پی کے حامی حلقوں نے احتجاج کرنے والوں کو طلبہ کو” نکسل باغی” اور بھارت مخالف قرار دیا اور "غیر ملکی فنڈنگ” کے تحت ہونے والے احتجاج کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ جے این یو میں نریندر مودی اور امیت شاہ کے خلاف نعرے لگانے پر بی جے پی لیڈروںنے سخت ناراضگی کا اظہار کیا اورالزام لگایاکہ "کمیونسٹ قوتیں بھارت کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ این سی آر بی کے 2023کے اعداد و شمار کے مطابق، جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں بغاوت کے مقدمات اور کالے قانون یو اے پی اے کے تحت مقدمات کے اندراج میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ فری اسپیچ کلیکٹو کی 2025کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں 14ہزار875آزادی اظہار کی خلاف ورزیاں رپورٹ کی گئی ہیں، جن میں تعلیمی اداروں پر پابندیاں بھی شامل ہیں۔بی جے پی حکومت نے جے این یو میں ہونے والے احتجاجات کے دوران بات چیت کی بجائے طاقت کے استعمال کو ترجیح دی ہے، جس کی وجہ سے حکومت اور طلبہ کے درمیان اعتماد کا بحران پیدا ہو چکا ہے۔ بی جے پی نے اپنے مخالفین کو "ملک دشمن "قرار دے کر انہیں ناپسندیدہ عناصر کی فہرست میں ڈال دیا ہے، جس سے پورے ملک میں ایک تقسیم پیدا ہو چکی ہے۔یہ سیاسی کشیدگیاں بھارت میں جمہوری اور اظہار رائے کی آزادی کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہیں۔ بی جے پی کی سخت گیر ہندو توا پالیسی اور اس کے تحت ہونے والی کارروائیاں بھارت کے تعلیمی اداروں میں سیاسی اور سماجی اختلافات کو مزید بڑھا رہی ہیں۔ جے این یو جیسے ادارے جو کبھی آزادی اظہار اور جمہوریت کی علامت سمجھے جاتے تھے، اب بی جے پی کے نظریاتی تسلط کے خلاف احتجاج کا میدان بن چکے ہیں۔








