مقبوضہ جموں و کشمیر

کٹھوعہ میں کشمیری نوجوانوں کو بدنام کرنے کی بھارتی مہم جاری

جموں:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میںقابض حکام نے ضلع کٹھوعہ میں مقامی نوجوانوں کی مزید تصاویر جاری کرکے اہم مقامات پر چسپاں کی ہیں اور انہیں مشتبہ عسکریت پسند قراردیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق پوسٹر مہم کا مقصد سیکورٹی کے بہانے مکینوں کو اپنے ہی لوگوں اور خاندانوں کے بارے میں فوج، پولیس، سی آر پی ایف اور بی ایس ایف کو اطلاع دینے پر مجبور کرنا ہے۔ پوسٹروں میںایک ہیلپ لائن نمبردیاگیا ہے اور مخبروں کے نام ظاہر نہ کرنے کا وعدہ کیاگیا ہے تاکہ شہریوں میں خوف ودہشت اور عدم اعتماد کا ماحول پیدا کیا جائے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارتی فورسز کا یہ اقدام حق خود ارادیت کی مقامی جدوجہد کو نقصان پہنچانے اور عوامی مزاحمت کو دبانے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ مہم جان بوجھ کران کشمیری نوجوانوں کو بدنام کرنے کی کوشش ہے جن کا تعلق ایسے خاندانوں سے ہے جنہوں نے کشمیر کازکے لیے بار بار قربانیاں دی ہیں اور مقامی تحریک کو غیر قانونی قرار دینے کے لیے انہیں غیر ملکی عسکریت پسند کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں سیاسی رہنماﺅں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے اس اقدام کو کمیونٹیزمیں تقسیم پیدا کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش قراردے کر اس کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پوسٹر مہمات کا مقصد علاقے میں بھارت کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانا اورمحاصرے اورتلاشی کی کارروائیوں اور چھاپوںکے لئے جواز پیداکرناہے۔ناقدین نے خبردار کیا ہے کہ مقامی نوجوانوں کو بدنام کرنے کا ہتھکنڈا آبادی کو خوفزدہ کرنے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو ختم کرنے اور غیر قانونی قبضے کو طول دینے کی کوشش ہے۔
دریں اثناءکٹھوعہ کے رہائشیوں نے پوسٹر مہم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ اس طرح کے اقدامات سے سیکیورٹی کے نام پر لوگوں کو ہراساں کرنے، بلا جواز گرفتارکرنے اور مظالم کا نشانہ بنانے کا خطرہ بڑھ گیاہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پوسٹر مہم، مسلسل نگرانی اور بھاری تعداد میںفوجیوں کی موجودگی سے عام شہریوں میں خوف ودہشت پیدا ہواہے جو پہلے ہی سخت پابندیوں اور روزانہ فوجی کریک ڈاو¿ن میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button