کشمیر کے حوالے سے کتابوں پر پابندی تعلیمی آزادی پر حملہ ہے :انڈیا اکیڈمک فریڈم نیٹ ورک
نئی دہلی: انڈیا اکیڈمک فریڈم نیٹ ورک(آئی اے ایف این)نے جموں و کشمیر کے بارے میں کتابوں پر حالیہ پابندی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے تعلیمی آزادی پر سنگین حملہ قرار دیا اور اسے فوری طور پرواپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق نئی دہلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی زیر قیادت قابض انتظامیہ نے رواں سال 5اگست کو دفعہ370 کی منسوخی کے چھ سال مکمل ہونے کے موقع پر جموں وکشمیر کے بارے میں کشمیری، بھارتی اور بین الاقوامی مصنفین کی تصنیف کردہ 25کتابوں پر پابندی عائد کردی ۔انڈیا اکیڈمک فریڈم نیٹ ورک نے ایک بیان میں کہاکہ ن کتابوں پر پابندی لگا کر جس سے وہ متفق نہیں ہے، ریاست اپنے جابرانہ رویہ کا واضح ثبوت فراہم کر رہی ہے۔آئی اے ایف این نے مقبوضہ جموں وکشمیرکی ریاستی حیثیت بحال کرنے میں تاخیر پر سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ جموں و کشمیر میں انتخابات ہو چکے ہیں اور سپریم کورٹ میں ریاستی حیثیت کی بحالی کے بارے میں بھارتی حکومت کی یقین دہانی کے چھ سال بعد بھی اس کے آثار نظر نہیں آتے۔ منوج سنہا کے زیر کنٹرول جموں و کشمیر کے محکمہ داخلہ کی طرف سے جاری کردہ حکم نامے کا مقصد یہ ہے کہ جموں و کشمیر کے سیاسی ماضی اور خطے میں ہونے والے جبر پر بات نہ کی جائے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ کتابوں پر پابندی خیالات اور دلائل کا جواب ریاستی طاقت سے دینے کی کوشش ہے۔آئی اے ایف این نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس حکم کو منسوخ کرے اور مقبوضہ جموں وکشمیرکے عوام ،ماہرین تعلیم اور بھارتی عوام کو یقین دلائے کہ تعلیمی آزادی پر اس طرح کے حملے نہیں دہرائے جائیں گے۔






