
تحریر: ارشد میر
بھارت کی جانب سے “پرہار” کے نام سے نئی "قومی انسدادِ دہشت گردی” پالیسی کا اعلان بظاہر ایک انتظامی اور سکیورٹی اقدام دکھائی دیتا ہے، لیکن، اگر اسے مقبوضہ جموں و کشمیر کی 78 سالہ تاریخ اور بالخصوص گزشتہ 35 برسوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ایک اور تیر معلوم ہوتا ہے جو اسی ترکش سے نکالا گیا ہے جس میں موجود بے شمار تیر کشمیریوں کی تحریکِ آزادی کو کچلنے کے لئے پہلے ہی آزمائے جا چکے ہیں۔ تاہم بھارتیوں کے اپنے لئے یہ اہم سوال ہے کہ جب اتنے طویل عرصے میں طاقت، قانون، سیاست، معیشت اور سفارت کاری کے ہر ممکن ہتھکنڈے استعمال کرنے کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہ کئے جاسکے تو “پرہار” کون سی نئی ضمانت لے کر آیا ہے؟
گزشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے میں مقبوضہ جموں و کشمیر دنیا کے اُن خطوں میں شمار ہوتا رہا ہے جہاں سب سے زیادہ فوجی جماؤہے۔ دس لاکھ کے قریب فوجی اور نیم فوجی اہلکار اس چھوٹے سے ہمالیائی متنازعہ خطے میں تعینات ہیں اور عملا اسکو محصور کرکے باقی دنیا سے کاٹ کر رکھا ہوا ہے۔ کشمیریوں کی گذشتہ 35 سالہ مزاحمت کے دوران اس قابض فوج ےکے ہاتھوں 96 ہزار لوگ شہید ہوئے، بے شمار خاندان اجڑ گئے، نوجوانوں کی ایک نسل قتل ، محاصروں، تلاشیوں، گرفتاریوں، جیلوں، عقوبت خانوں اور قبرستانوں کے درمیان پروان چڑھی۔ کیا یہ سب کچھ تحریکِ آزادی کو ختم کرنے کے لیے کافی نہیں سمجھا گیا تھا؟
کالے قوانین کا نفاذ اس حکمتِ عملی کا مرکزی ستون رہا ہے۔ Armed Forces Special Powers Act (AFSPA) نے قابض بھارتی فورسز کو غیر معمولی اختیارات فراہم کیےجن کے تحت تلاشی، گرفتاری اور حتیٰ کہ بغیر کسی معقول وجہ یا اشتعال کے کسی کو قتل کرنے تک کے فیصلے کو "قانونی” تحفظ حاصل رہا۔
بھارتی فوج کے جرنیلوں نے استثناء کے اس قانون کو مقدس شیلڈ قرار دیا۔ اسی طرح Unlawful Activities (Prevention) Act (UAPA) اور Public Safety Act (PSA) کو سیاسی کارکنوں، صحافیوں، طلبہ اور سماجی رہنماؤں کے خلاف بارہا استعمال کیا گیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان قوانین کو Lawless Laws قرار دیا۔ طویل نظربندیاں، بغیر مقدمے کے قید اور ضمانت کے پیچیدہ مراحل دہائیوں کا معمول ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ قوانین پہلے ہی علاقہ کو غیر معمولی اختیارات دے رہے تھے تو پھر “پرہار” کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
“پرہار” پالیسی کو بھارتی وزارت داخلہ نے ایک ‘جامع انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی’ قرار دیا ہے جو خشکی، فضاء، سمندر اور سائبر اسپیس میں درپیش خطرات سے نمٹنے کا دعویٰ کرتی ہے۔ اس میں “پیشگی کارروائی”، سائبر نگرانی، انٹیلی جنس کے اشتراک اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا گیا ہے۔ مگر ناقدین کے مطابق اس وسیع اور مبہم تعریف کے تحت سیاسی اختلاف، عوامی احتجاج اور حقِ خود ارادیت کے مطالبے کو بھی “دہشت گردی” کے خانے میں ڈالا جانا مقصود ہے۔ کشمیر میں تو پہلے ہی ہر مزاحمتی آواز کو اسی پیمانے پر رکھ کر اسے پوری سفاکیت سے کچلنے کے سامان کئے جارہے ہیں۔
78 سالہ تاریخ پر نظر دوڑائیں تو کشمیریوں کی تحریک آزادی کے خلاف سیاسی حربے بھی کم نہیں آزمائے گئے۔ جابرانہ تسلط کو جمہوری پردہ فراہم کرنے کی غرض سے مقامی سیاسی نرسری میں کٹھ پتلیوں کی تخلیق اور ڈھونگ انتخابات کے ذریعہ انھیں مسند اقتدار پر بٹھانا، ان کے مقامی سیاسی کردار کو ایک حد میں رکھنا ،ان کے ساتھ شراکت اقتدار کرنا اور حسب ضرورت بےاختیار کرنا، یہ سب سیاسی انجینئرنگ کا حصہ رہا ہے۔ کبھی نام نہاد“مین اسٹریم” سیاست کے ذریعے عوامی غصے کو جذب کرنے کی کوشش کی گئی اور کبھی ترقیاتی پیکیجز اور خصوصی مراعات کی صورت میں سیاسی رشوتیں دی گئیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر سیاسی عمل اتنا ہی مؤثر تھا تو بار بار سخت گیر سکیورٹی اقدامات کی ضرورت کیوں پیش آتی رہی؟ بھارتی حکمران اور فوجی جرنیل ہمیشہ کہتے آئے ہیں کہ جموں و کشمیر میں فوج کے استعمال کا مقصد حالات کی ایسی بساط بچھانا ہے کہ جس پر سیاسی عمارت قائم کی جاسکے تو کیا دس لاکھ فوج کے دہائیوں کے استعمال سے یہ بساط آج تک قائم نہیں ہوئی جو نئے نئے حربے استعمال کرنا پڑتے ہیں؟ یہ نئے حربےسابقہ حربوں کی ناکامی کا مظہر ہیں توبھارتی عوام کا پوچھنا بنتا ہے کہ ان نئے حربوں کی آزمائش سے پہلے سابقہ کی ناکامی کی ذمہ داری کس کی ہے؟
معاشی میدان میں بھی بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں اور پیکیجز کا اعلان کیا گیا۔ سڑکیں، بجلی کے منصوبے، سیاحت کے فروغ کے دعوے،یہ سب کچھ “نارملسی” کے بیانیے کے ساتھ پیش کیا گیا۔ لیکن زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ جب سیاسی غیر یقینی اور سکیورٹی دباؤ برقرار رہے تو معاشی ترقی پائیدار ثابت نہیں ہوتی۔ کاروبار بند ہوتے ہیں، انٹرنیٹ معطلی معمول بن جاتی ہے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع محدود رہتے ہیں۔ ایسے میں ترقیاتی بیانیہ عوامی اعتماد بحال کرنے میں کیوں ناکام رہا؟ "شائننگ انڈیا اور سب کا وکاس” کے نعروں کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے مقابلہ میں بےروز گاری کی شرح ڈیڑھ فیصد زیادہ ہے۔ بھارت کے Periodic Labour Force Survey کے مطابق بھارت میں5 فیصدیعنی 30 ملین لوگ بے روزگار ہیں جن میں نوجوانوں کی شرح 10 تا 15 فیصد ہے جبکہ جموں و کشمیر میں6.7 فیصد ہے۔ صرف سرکاری نوکری کے متلاشی پڑھے لکھے نوجوانوں کی تعداد ساڑھے تین سے پونے چار لاکھ تک ہے۔ انھیں روزگار کے بجائے منشیات دی جارہی ہیں۔ کبھی برصغیر میں منشیات سےسب سے محفوظ خطہ سمجھے جانے والے مقبوضہ جموں و کشمیر اس وقت 13.5 لاکھ لوگ منشیت کی لت میں پڑ چکے ہیں جن میں7 تا 10 سال کی عمر کے1,68,700 بچے بھی ہیں۔یہی نہیں ، ذراعت اور معدنیات پر مبنی کشمیریوں کی خود انحصاری کے تمام ذرائع منظم انداز میں ختم کرکے انھیں مکمل طور پر بھارت کے دست نگر بنایا جارہا ہے۔
تہذیبی اور عددی سطح پر بھی کشمیری تطہری عمل سے گذر رہے ہیں۔ آبادی کے تناسب، زمین کے قوانین اور شناخت سے جڑے معاملات کی صورت میں انھیں سنگین چلینجز درپیش ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین بھی ان اقدامات کو خطے کی ڈیموگرافی اور سیاسی ساخت کو تبدیل کرنے کی کوششوں کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اگر بھارتی دعوؤں کے مطابق کشمیری اسکے اپنے ہیں، تو عددی ، تہذیبی، سیاسی اور معاشی طور پر انکی تطہیر کرنےاور انسداد دہشت گردی کی نئی پالیساں ٹھونسنے کی ضرورت کیوں آن پڑ رہی ہے؟
اب “پرہار” کے ذریعے ایک نیا فریم ورک سامنے لایا جا رہا ہے جو سائبر نگرانی اور ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید وسعت دے سکتا ہے۔ اس کا مطلب سوشل میڈیا کی کڑی مانیٹرنگ، ڈیجیٹل سرگرمیوں کی جانچ اور اختلافی آوازوں پر مزید دباؤ ہو سکتا ہے۔ کشمیر جو پہلے ہی دنیا کے سب سے زیادہ فوجی جماؤ والے علاقوں میں شمار ہوتا ہے، میں اگر نگرانی اور پیشگی گرفتاریوں کا دائرہ مزید وسیع ہوتا ہے تو کیا اس سے سیاسی خلا کم ہوگا یا مزید بڑھے گا؟
مسئلہ بنیادی طور پر سیاسی ہے مگر اس کا حل مسلسل سکیورٹی اور عسکری زاویے سے تلاش کیا جا رہا ہے۔ جب ایک تنازعہ کی جڑیں تاریخی، آئینی اور عوامی خواہشات سے جڑی ہوں تو کیا محض طاقت کے استعمال سے اسے دبایا جا سکتا ہے؟ گزشتہ 35 برسوں میں بے شمار آپریشنز، گرفتاریاں، پابندیاں اور ابلاغی قدغنیں دیکھنے میں آئیں مگر تحریکِ آزادی کا بیانیہ ختم نہ ہو سکا۔ اگر اتنے وسائل، اتنی افرادی قوت اور اتنے قوانین کے باوجود مقصد حاصل نہ ہو سکا تو مستقبل میں کیا ضمانت ہے کہ ایک نئی پالیسی مختلف نتائج دے گی؟
یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ کیا “پرہار” دراصل اس اعتراف کا نام نہیں کہ سابقہ تمام اقدامات مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہے؟ اگر AFSPA، UAPA اور PSA جیسے قوانین پہلے ہی ریاست کو وسیع اختیارات فراہم کرتے تھے، اگر سیاسی عمل اور ترقیاتی پیکیجز کے ذریعے “انضمام” کا خواب پورا نہیں ہو سکا، اگر سخت سکیورٹی حکمتِ عملی کے باوجود مزاحمت کی آواز دب نہیں سکی، تو پھر ایک نئی پالیسی کا اعلان کیا اسی ناکامی کا تسلسل نہیں؟
تاریخ یہ بتاتی ہے کہ طاقت وقتی خاموشی تو لا سکتی ہےمگر پائیدار امن کے لیے مکالمہ، اعتماد سازی اور سیاسی حل ناگزیر ہوتے ہیں۔ جب تک مسئلے کی جڑ،یعنی عوامی خواہشات، شناخت اور حقِ خود ارادیت کے سوال،کو سنجیدگی سے تسلیم نہیں کیا جاتا، تب تک ہر نئی پالیسی پرانے زخموں کو تازہ کرنے کا خدشہ رکھتی ہے۔ “پرہار” اگر واقعی امن کا ضامن بننا چاہتا ہے تو اسے محض انسدادِ دہشت گردی کے فریم سے نکل کر زمینی و تاریخی حقائق کے اعتراف، سیاسی مفاہمت، انسانی حقوق کے احترام اور شفاف مکالمے کی سمت قدم بڑھانا ہوگا۔
ورنہ اندیشہ یہی ہے کہ یہ پالیسی بھی اُن بے شمار اقدامات کی فہرست میں شامل ہو جائے گی جو گزشتہ 78 برسوں میں آزمائے گئے مگر دلوں کو جیتنے میں ناکام رہے۔ طاقت کے بل پر خاموشی تو مسلط کی جا سکتی ہےمگر تاریخ گواہ ہے کہ خاموشی ہمیشہ رضا مندی نہیں ہوتی۔ اصل سوال آج بھی وہی ہےکہ کیا بندوق، قانون اور نگرانی اُس جذبے کو ختم کر سکتے ہیں جو دہائیوں سے کسوٹی پر پوری اترچکےسیاسی اور تاریخی حقائق کا ترجمان ہے؟ اگر سچائی جواب ہاں میں دینے کی اجازت نہیں دیتی تو مستقبل میں اس کے بدل جانے کی کیا ضمانت ہے؟







